شہر، سیاست اور وہ لوگ جو بیچ میں رہ گئے۔ازقلم : ابرارالحق مظہر حسناتی، سولاپور۔


شہر، سیاست اور وہ لوگ جو بیچ میں رہ گئے۔
ازقلم : ابرارالحق مظہر حسناتی، سولاپور۔ 

ہم نے جس سیاست کو مدتوں تک جغرافیے کی دوری کا فائدہ دے کر اضلاع کے کھاتے میں ڈال رکھا تھا، وہ اب کسی سرکاری فائل کی طرح خاموشی سے شہر کے اندر منتقل ہو چکی ہے، اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس منتقلی کے کاغذات پر نہ کسی نے دستخط کیے، نہ کسی سے اجازت لی گئی، بس ایک دن آنکھ کھلی تو معلوم ہوا کہ جو ہلچل کبھی خبروں میں دیکھی جاتی تھی، اب وہ قدموں کی آواز بن کر ہمارے دروازوں کے نیچے سے گزر رہی ہے۔
یہاں اب جو کچھ ہورہا ہے، اسے واقعہ کہنا واقعے کی توہین ہوگی، کیونکہ واقعہ وہ ہوتا ہے جس کی ابتدا اور انتہا دونوں معلوم ہوں، جبکہ یہ جو کچھ ہے، وہ ایک ایسی مسلسل کیفیت ہے جو شروع بھی ہو چکی ہے اور ختم ہونے سے بھی انکاری ہے، جیسے کوئی جملہ جو بول تو دیا گیا ہو مگر مکمل ہونے سے پہلے ہی کسی اور جملے میں ضم کر دیا گیا ہو۔
شہر میں لوگوں کا آنا جانا اب جسمانی نقل و حرکت نہیں رہا، بلکہ موقف، نظریے اور ضمیر کی ایسی ہجرت بن چکا ہے جس میں سامان کم اور نیت زیادہ بدلی جاتی ہے، اور یہ تبدیلی اس سرعت سے وقوع پذیر ہوتی ہے کہ کل کی یاد آج کے بیان میں جھوٹ محسوس ہونے لگتی ہے، حالانکہ جھوٹ وہ نہیں ہوتا، صرف پرانا ہو جاتا ہے۔
وفاداری اب کسی کردار کا وصف نہیں رہی، بلکہ ایک عارضی کیفیت ہے جو فائدے کے درجۂ حرارت کے مطابق پگھلتی اور جمتی رہتی ہے، اور سیاست دان اس کیفیت کو اس مہارت سے برتتے ہیں جیسے باورچی مصالحہ—کبھی زیادہ، کبھی کم، مگر ذائقہ ہمیشہ اپنے حق میں۔
عوام، خصوصاً حیدرآباد کے لوگ، اس تمام منظرنامے میں اس مسافر کی مانند ہیں جو سفر میں شامل تو ہے، مگر منزل کا نام اسے آخری اسٹیشن پر بھی نہیں بتایا جاتا، اور پھر اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ خوشی سے اترے، کیونکہ سفر بہرحال ترقی کی علامت تھا۔ سڑک بند ہو تو اسے کہا جاتا ہے کہ یہ مستقبل کی راہ ہموار کی جا رہی ہے، اور اگر وقت، کاروبار اور اعصاب تینوں ضائع ہو جائیں تو اسے قومی مفاد کا لازمی نقصان قرار دے کر معاملہ رفع دفع کر دیا جاتا ہے۔
یہاں مزاح اس مقام پر جنم لیتا ہے جہاں سنجیدگی اپنی حدوں سے آگے نکل کر خود اپنا مذاق بننے لگتی ہے۔ ہر بیان اتنا بوجھل ہے کہ ہنسی اس کے نیچے سے پھسل کر باہر آ جاتی ہے، جیسے کسی نے فلسفہ اس نیت سے بولا ہو کہ کوئی سمجھے نہ، مگر سب سر ہلا دیں۔ وعدے اتنی بار دہرائے جا چکے ہیں کہ اب وہ ٹوٹتے نہیں، صرف تھک جاتے ہیں، اور تھکی ہوئی چیزوں پر غصہ کرنے کی سکت عوام کے پاس کب کی ختم ہو چکی ہے۔
عام آدمی اب سیاست کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا، وہ اسے سہنے کا طریقہ سیکھ چکا ہے۔ وہ سوال نہیں اٹھاتا، صرف اندازے لگاتا ہے—آج کس خبر کے بعد قیمت بڑھے گی، کس اعلان کے بعد راستہ بند ہوگا، اور کس تقریر کے بعد خاموشی مزید مہنگی ہو جائے گی۔ اس کے لیے سیاست اب کوئی نظری بحث نہیں، بلکہ روزمرہ کا وہ شور ہے جس کے ساتھ جینا سیکھ لیا جائے تو نیند آ ہی جاتی ہے۔
تلخی اس حقیقت میں ہے کہ سب خود کو مجبور کہتے ہیں، مگر مجبوری ہمیشہ اس سمت میں جاتی ہے جہاں طاقت موجود ہو، نہ کہ وہاں جہاں ضرورت ہو۔ جو واقعی مجبور ہے، وہ قطار میں کھڑا ہے، وہ انتظار کر رہا ہے، اور اس کا انتظار ہی اس کے خلاف سب سے مضبوط دلیل بنا دیا گیا ہے، کیونکہ خاموشی کو اب رضا مندی سمجھ لیا گیا ہے۔
کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ شہر کی دیواریں، سڑکیں اور درخت سب کچھ جانتے ہیں، اسی لیے خاموش ہیں، کیونکہ اگر وہ بول بھی پڑیں تو ان کے الفاظ بھی کسی نہ کسی مفاد کے خانے میں فٹ کر دیے جائیں گے۔ شور صرف ان کے حصے میں آیا ہے جن کے پاس کہنے کو کچھ نیا نہیں، مگر دہرانے کا اختیار پورا ہے۔
یہ سب کوئی اچانک ٹوٹ پڑنے والی بدنظمی نہیں، بلکہ آہستہ آہستہ قبول کر لی جانے والی ترتیب ہے، جس میں پہلے حیرت ہوتی ہے، پھر ہنسی آتی ہے، اور آخرکار عادت۔ اور عادت وہ واحد سیاسی کامیابی ہے جس پر کبھی اختلاف نہیں ہوتا، کیونکہ جو عادی ہو جائے، وہ سوال نہیں کرتا، اور جو سوال نہ کرے، وہ نظام کے لیے سب سے محفوظ شہری ہوتا ہے۔
یوں سیاست شہر میں قدم جما رہی ہے، اور صبر، جو کبھی اس شہر کی پہچان تھا، خاموشی سے پیچھے ہٹتا جا رہا ہے۔ چہرے بدل رہے ہیں، بیانات نئے ہو رہے ہیں، مگر کہانی وہی پرانی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے ہم اسے باہر سے دیکھتے تھے، اب اس کے اندر رہتے ہیں، اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں طنز مکمل ہو جاتا ہے—کہ اب حیرت بھی معمول بن چکی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔