تعزیتی نوٹ۔۔از: ڈاکٹر فاطمہ فلک ناز داروغہ،دھارواڑ، کرناٹک۔

تعزیتی نوٹ۔۔
از: ڈاکٹر فاطمہ فلک ناز داروغہ،
دھارواڑ، کرناٹک۔

"ایک سایۂ شفقت کا بچھڑ جانا"
محترم عزیز بلگامی صاحب کی رحلت نے دل پر ایسا گہرا بوجھ ڈال دیا ہے کہ الفاظ بھی اس درد کو پوری طرح بیان کرنے سے عاجز ہیں۔ ان کا جانا صرف ادبی دنیا کے لیے نقصان نہیں، بلکہ میرے لیے ایک ایسی ہستی کے بچھڑ جانے کا صدمہ ہے جو ہمیشہ میرے دل کے قریب رہی۔ میرے لۓ ایک ذاتی نقصان ہے وہ میرے لیے محض استاد نہیں تھے—بلکہ ایک والد کی طرح سایہ، رہنمائی اور دعاؤں کی قوت، جو ہر لمحہ میری بہتری کے لیے موجود تھی۔
میری کامیابیوں پر سب سے زیادہ خوش ہونے والا دل ان ہی کا تھا۔ پی ایچ ڈی کے سفر کی مشکلات ہوں یا عملی زندگی کے اتار چڑھاؤ، وہ ہر لمحہ میرے ساتھ موجود رہے۔ انہوں نے مجھے ہمیشہ اپنی بیٹی سمجھا، چاہت، اعتماد اور دعاؤں کے حصار میں رکھا۔
عزیز بلگامی صاحب کی ایک عادت آج بھی دل کو توڑ رہی ہے۔ ہر جمعہ کی نماز کے فوراً بعد وہ فوراً مجھے کال کرتے اور محبت بھرے لہجے میں کہتے:
"آج تمہارے لیے خوب دعائیں کی ہیں۔"
آج کا جمعہ… پہلا جمعہ ہے جب وہ کال نہیں آئی۔ دل جیسے ان کی محبت کو محسوس کرنے کے باوجود خاموشی کے ساتھ تسلیم کرنے پر مجبور ہے۔ صبر نہیں آتا، اور دل یہ حقیقت قبول کرنے کو تیار نہیں کہ اب وہ ہمارے درمیان نہیں رہے۔
۳۰ نومبر کی دوپہر شہر دھارواڑ میرے گھر  ملاقات طے تھی۔ ایک دن پہلے  انہوں نے کہا تھا:
"اگر میں آ گیا تو ہم دونوں کے نصیب…"
آج وہ آئے ہی نہیں۔ یہ جملہ اب دل میں ایک خالی پن اور درد کی گونج بن گیا، جو ہر لمحہ یاد دلاتا ہے کہ نصیب نے ہمیں ملنے نہ دیا۔
اور پھر وہ لمحہ جب انتقال کی خبر ملی—دل سہم کر رہ گیا۔ یقین کرنا دشوار تھا کہ رات جس شخص سے بات ہوئی تھی، صبح وہ اس دنیا میں نہ رہا۔ کوئی دن ایسا نہ تھا جب ہماری بات نہ ہوئی ہو۔ وہ ہر پل میری خبر رکھتے تھے—میری خوشی میں خوش، میرے دکھ میں شریک، ہر وقت میری طبیعت کے بارے میں فکرمند، اور ہمیشہ میری کامیابیاں اپنی کامیابیاں سمجھنے والے۔
ان کے آخری دیدار کے لیے بنگلور جانا میری زندگی کا سب سے بھاری سفر تھا۔ جنازے میں ان کے چہرے کو آخری بار دیکھ کر دل جیسے پھر سے شکستہ ہو گیا۔ فون پر جب بات ہوتی تھی تو ان کی محبت بھری آواز میں ایک جملہ ضرور آتا:
"اور سناؤ…"
آج میں بہت کچھ سنانا چاہتی ہوں—پر سر اب خاموش نیند سو چکے ہیں۔ میری آواز، میرے جذبات، میری باتیں… سب جیسے اسی خاموش فضا میں رک گئیں۔
مجھے یہ سعادت بھی حاصل ہوئی کہ حال ہی میں ان کے تہنیتی جلسے میں صدارت کا فریضہ انجام دیا۔ اس دن ان کی محبت بھری مسکراہٹ اور شفقت بھری نگاہیں میرے لیے ہمیشہ کی یاد بن گئیں۔ بنگلور قیام کے دوران انہوں نے جس طرح عزت، نہایت پیار اور حفاظت سے مجھے رکھا، وہ سب کچھ ایک والد کی شفقت کی جھلک تھی، جو اب یاد بن کر دل کو بھر دیتی ہے۔
الحمدللہ! مجھے یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ میرا پی ایچ ڈی مقالہ "عزیزالدین عزیز بلگامی کی حیات و خدمات" نہ صرف میری علمی کاوش ہے بلکہ میری روحانی نسبت کی علامت بھی ہے۔ 29 مارچ 2023 کو جب میں نے یہ مقالہ جمع کروایا، میں نے محسوس کیا کہ میں نے الفاظ کے ذریعے ان شخصیات پر وہ قرض اتارنے کی کوشش کی ہے جو انہوں نے برسوں محبت، دعا اور رہنمائی کی صورت میں میرے دل پر رکھا تھا۔
آج مجھے لوگ جہاں میرے والد محترم اور میرے خاندان کے نام سے پہچانتے ہیں، وہیں ادبی دنیا میں مجھے عزیز بلگامی پر قلم اٹھانے والی کے نام سے شناخت ملتی ہے—اور یہ نسبت میرے لیے زندگی بھر کا فخر ہے۔
میرے تعلیمی سفر کی مضبوط بنیاد ان کی دعائیں تھیں۔ میری ہر کامیابی پر سب سے زیادہ خوش ہونے والا دل وہی تھا۔ آج جب وہ دنیا میں نہیں رہے تو دل بے اختیار کہتا ہے:
کاش وقت پلٹ سکتا…
کاش ایک بار پھر وہ آواز سنائی دیتی…
کاش وہ ایک بار پھر کہتے: "تم نے دل خوش کر دیا۔"
صبر نہیں آتا، اور دل یہ حقیقت قبول کرنے کو تیار نہیں کہ اب وہ ہمارے درمیان نہیں رہے۔ ہر لمحہ ان کی یاد، ان کی محبت، ان کی رہنمائی اور ان کی شفقت کا احساس دل کو ایک درد بھری خوشبو کی طرح گھیرے رکھتا ہے۔
لیکن اب ان کی دعائیں، ان کی مسکراہٹ، ان کی شفقت—یہ سب یادوں کی شکل میں دل کے اندر ایک مقدس امانت کی طرح محفوظ رہیں گی۔ یہ یادیں ہمیشہ میری روح کو سکون دیں گی، اور مجھے ان کی محبت اور رہنمائی کی یاد دلاتی رہیں گی۔
اللہ تعالیٰ میرے محترم استاد کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات کو بلند فرمائے، ان کی خدمات اور محبتوں کو قبول فرمائے، اور ہمیں اس صدمے کو برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔
اے اللہ! انہیں اپنے نیک بندوں کے ساتھ اعلیٰ مقامات عطا فرما۔
آمین۔
اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ

عزیز ہے وہ پھول جو فلک کی باغ میں کھلا
دوستی کی خوشبو سے ہر لمحہ مہکا چلا

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔