غزل۔۔(حالیہ وقف ترمیمی بل کے تناظر میں)شاعر تصوف حضرت عثمان جوہری جلگاؤں۔۔
غزل۔۔
(حالیہ وقف ترمیمی بل کے تناظر میں)
شاعر تصوف حضرت عثمان جوہری جلگاؤں۔۔
یہ جائدادیں ہیں فخرِ مغلی بہ صد سند ہند کے سپاہی
ادھر ہیں تقوے ادھر ہیں فتنے نہیں چلے گی یہ کج کلاہی
لہو سے سینچا ہے اس چمن کو نہ جلنے دیں گے ہم آشیاں کو
ہماری کوشش بنی رہے گی وقا کی منزل کے ہم ہیں راہی
قطب نما یہ عمارتیں کیا کئ محل ہیں نشاں ہمارے
نہیں مٹیں گے یہ نقش پیہم رہے گی قائم یہ بادشاہی
فقیر تقوئے وہ جذب سجدے اذان رقص ستون تہہ تک
یہ مسجدیں ہیں نہ تم گراؤ نظر بہ فرماں ہے کم نگاہی
بلندیوں پر ہے خونِ ناحق گرا نہ دے آسمان بجلی
ہے وقت نازک ذرا سنبھل کر ضمیرِ قائم ہو خانقاہی
بہ حالِ گردوں ہے یہ زمانہ ہیں کتنے الزام کس کے سر پر
نظر میں ہیں بے رخی کے جلوے ستم کے ہاتھوں عجب تباہی.
Comments
Post a Comment