افسانچہ ”امن کے لئے رول“ازقلم : محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک۔

افسانچہ ”امن کے لئے رول“
ازقلم : محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک۔ 

 میرے غیرملکی ساتھی سے میں نے اپنے ملک کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ ”میں ایک پیس فل ملک میں رہتاہوں۔ غزہ میں نہیں۔ جس وقت میں اسپتال میں زیرعلاج تھا، سوچتاتھا، غزہ کے اسپتالوں پر بم ڈالے جارہے ہیں جب کہ میرے ملک کے اسپتال زندہ وپائندہ ہیں۔ کوئی ان اسپتالوں کی طرف آنکھ اٹھاکر نہیں دیکھ سکتا۔ ہمارے اسپتال مریضوں کی مسلسل خدمت کررہے ہیں۔ میں تو کہتاہوں کہ میرا ملک سب سے زیادہ امن پسند اور رہنے لائق ملک ہے۔ ساری دنیامیں زیادہ امن پسند ملک ہمارا ہے“
 میری غیر ملکی ساتھی ماریہ ایوان نے کہا”اس میں تمہارے ملک کارول کم اور پڑوسی ممالک کارول زیاد ہ ہے۔ پڑوسی ممالک تم پر حملہ نہیں کررہے ہیں۔ اگر کوئی پڑوسی ملک تمہارے ملک پر تابڑ توڑ حملے شروع کردے تو پھر امن بھی جائے گا۔ سارے اسپتال بھی خوفناک پنجروں میں تبدیل ہو کررہ جائیں گے، سمجھے“
 میں کافی دیر سے اپناسرپکڑے بیٹھاہوں۔ ماریہ ایوان موبائل پر اپنے ملک بات کررہی ہے۔ 



دکنی غزل 
میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک 
ساری فیملی کو وہ سمجا کو سورئے 
ہکلا اَدمی ہے، سو ہکلا کو سورئے 

بچے لڑنے بھڑنے کو تیار ہیں پر
بچہ میرا لیکن تنّا کو سورئے 

نوکری ملنے والی ہے نئیں، سوچ کو یہ 
پوٹٹا میرے دیش کا گھبرا کو سورئے 

میرا کیاہے دفتر میں سو،لیتوں میں 
ساری نیندکو توکیا گھرلا کو سورئے 

میں بھی پوچھا، کیسے ہیں تیرے ابّا 
بولا، گلف میں ابّا غم کھاکو سورئے 

دیش کی حالت ہر گز بھی اچھی نئیں ہے 
دیش یہ تن من میں ڈر لاکو سورئے 

کس کاجنازہ تھاکی، لوگاں بولے میرؔ
آج عُمَر بھر کا وہ، پچتا کو سورئے

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔