دھَرن گاؤں میں کمسن اقلیتی بچی پر انسانیت سوز ظلم۔۔“یہ محض جرم نہیں بلکہ انسانیت، اخلاق اور دستورِ ہند پر بدنما داغ ہے” ایکتا سنگٹھنا.
دھَرن گاؤں میں کمسن اقلیتی بچی پر انسانیت سوز ظلم۔۔
“یہ محض جرم نہیں بلکہ انسانیت، اخلاق اور دستورِ ہند پر بدنما داغ ہے” ایکتا سنگٹھنا.
جلگاؤں (عقیل خان بیاولی) جلگاؤں ضلع کی تحصیل دھَرن گاؤں میں پیش آئی ایک دل دہلا دینے والے سانحہ نے پورے علاقے کو غم و غصّے سے بھر دیا ہے۔محض 14 سالہ کمسن اقلیتی بچی کے ساتھ درندگی، جنسی زیادتی اور قتل کی کوشش کا لرزہ خیز واقعہ منظرِ عام پر آیا ہے۔
اس سنگین جرم کے تعلق سے دھَرن گاؤں پولیس اسٹیشن میں بھارتیہ نیائے سنہِتا (BNS) کی دفعات 74، 75(1)، 115(2) اور پوکسو ایکٹ کی دفعات 8 اور 12 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔تاہم، ایکتا سنگٹھنا نے اس واقعے کو انتہائی بھیانک اور غیر انسانی جرم قرار دیتے ہوئے ایف آئی آر میں مزید سنگین دفعات شامل کرنے اور ملزم کو نابالغ نہیں بلکہ بالغ مجرم کے طور پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
واقعے کی تفصیلات؛ روح کانپ اُٹھی!
درخواست میں بتایا گیا ہے کہ ملزم نے کمسن بچی کو جھانسہ دے کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا، زبردستی اور دھمکیوں کے ذریعے اس کی جان لینے کی کوشش کی۔یہ جرم بھارتیہ نیائے سنہِتا کے تحت قتل کی کوشش (دفعہ 307)، اغوا (دفعہ 363)، زبردستی لے جانا (دفعہ 366)، خطرناک ہتھیار سے حملہ (دفعہ 326) اور مجرمانہ دھمکی (دفعہ 506) جیسے سنگین جرائم میں شامل ہے۔ایکتا سنگھٹنا نے پُرزور مطالبہ کیا کہ ان تمام دفعات کو ایف آئی آر میں شامل کیا جائے تاکہ جرم کی سنگینی کے مطابق سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
“ملزم کو نابالغ نہیں بلکہ بالغ مانا جائے” — فاروق شیخ کا مؤقف۔"
ایکتا سنگٹھنا کے روح رواں فاروق شیخ نے پولیس انسپکٹر سنیل پاٹل اور تفتیشی افسر پی ایس آئی بڑگوجر سے ملاقات کر کے تحریری عرضداشت پیش کی۔
انہوں نے کہا: “یہ ظلم کسی ایک بچی پر نہیں بلکہ پوری انسانیت کی روح پر حملہ ہے۔
ملزم کی عمر اگرچہ 17 سال 11 ماہ بتائی گئی ہے، مگر جرم کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اسے ‘نابالغ’ نہیں بلکہ بالغ مجرم سمجھا جائے۔کِشور نیائے ادینیم 2015 (Juvenile Justice Act) کی دفعات 15 اور 18(3) کے مطابق اس پر بالغ کی طرح مقدمہ چلایا جانا چاہئے۔انصاف اسی وقت ممکن ہے جب اس جرم کو ‘بچوں کی غلطی’ نہیں بلکہ ‘انسانیت کے خلاف سنگین جرم’ کے طور پر دیکھا جائے۔”
شکایت پیش کرتے وقت ایکتا سنگھٹنا کے وفد میں مفتی خالد، فاروق شیخ، ایڈوکیٹ اویس، انیش شاہ، عارف دیشمکھ، حاجی یوسف، حافظ جنید، سعید فیاض سمیت دھَرن گاؤں کے حاجی رفیق قریشی، بشیر مومن، ندیم قاضی، رحمان شاہ اور دیگر سرکردہ شخصیات موجود تھیں۔ وفد نے پولیس انسپکٹر کو دو تحریری عرضداشتیں دیں:١؛ شکایت گزار کا تکمیلی بیان.٢؛ایکتا تنظیم کی تفصیلی درخواست.
یہ عرضداشتیں ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ، بچہ تحفظ افسر اور ضلع کِشور نیائے بورڈ جلگاؤں کو بھی ارسال کی گئیں۔
ہندوستان کے دستور کے آرٹیکل 14 (برابری کا حق)، 15 (تفریق سے تحفظ) اور 21 (زندگی و وقار کا حق) ہر شہری کو عزت، تحفظ اور آزادی کے ساتھ جینے کا حق عطا کرتے ہیں۔ایسے میں اس کمسن مظلوم بچی کو انصاف دلانا نہ صرف قانونی تقاضا بلکہ ایک دستوری ذمہ داری بھی ہے۔یہ سانحہ یاد دلاتا ہے کہ اگر معاشرہ خاموش رہا تو کل انسانی قدریں دم توڑ دیں گی۔اس موقع پر تنظیم نے کہا کہ“ہم اس بچی کو انصاف دلانے تک خاموش نہیں بیٹھیں گے۔مجرم کو ایسی سخت سزا دی جائے کہ وہ قانون کے وجود کو یاد رکھے۔یہ ملک دستور پر قائم ہے، اور جب تک دستور زندہ ہے، انصاف بھی زندہ رہے گا۔”
Comments
Post a Comment