میت کے ایصال ثواب کا مسنون طریقہ۔ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے۔
میت کے ایصال ثواب کا مسنون طریقہ۔
ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے۔
انسان جب تک زندہ رہے اور نیک و صالح اعمال کرتا رہے تو اسکے لئے اجروثواب کا سلسلہ جاری رہتا ہے لیکن بعض صورتوں میں وفات کے بعد بھی دوسروں کی جانب سیے میت کے حق میں کی جانیوالی دعائیں اور میت کیخاطر کیا جانیوالا صدقہ و خیرات اسکا بھی فائدہ اور اجر و ثواب میت کو پہنچتا ہے جیساکہ قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں اسکی صراحت موجود ہے
اللہ تعالی فرماتے ہیں
اور وہ جو انکے بعد آئے وہ کہتے ھیکہ اے ہمارے رب ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے
( سورہ الحشر)
آیت میں بعد میں آنے والوں سے مراد تابعین اور قیامت تک آنے والے سارے مومن مراد ہیں اور ان سے پہلے ایمان میں سبقت کرنے والے حضرات صحابہ کرام اور وہ تمام مومن جو پہلے گذر گئے اس آیت مبارکہ میں بعد میں آنے والوں نے اپنے ساتھ اپنے سے پہلوں کے لئے دعا فرمائی ہے اسلئے امام نووی فرماتے ھیکہ میت کے حق میں دعا کرنا جائز ہے
اسطرح میت کے قبر میں دفن کئے جانے کے بعد میت کے لئے استغفار کرنے اور منکر نکیر کے سوالات کے وقت ثابت قدمی کے لئے دعا کرنیکا حکم فرمایا ہے
حدیث شریف میں ھیکہ نبئ کریم جب میت کو دفن کرکے فارغ ہوجاتے تو قبر پر ٹہرتے اور فرماتے اپنے بھائی کے لئے بخشش مانگو اسلئے کہ اب اس سے سوال کیا جارہا ہے
( ابو داود )
اسلئے دفن سے فراغت کے بعد انفرادی طورپر میت کے لئے استغفار اور سوالات کے وقت ثابت قدمی کی دعا کرنی چایئے
اسطرح احادیث مبارکہ میں میت کی طرفسے صدقہ کرنیکا بیان ہے
حضرت عائشہ سے روایت ھیکہ ایک آدمی نے نبئ کریم سے عرض کیا میری ماں اچانک وفات پاگئی ہے اور میرا خیال ھیکہ اگر اسے کچھ بولنے کا موقع ملتا تو وہ صدقہ کرنیکی تلقین کرتی اگر میں اسکی طرفسے صدقہ کروں تو کیا اسے اجر ملیگا ? آپ نے فرمایا ہاں
( متفق علیہ )
اس حدیث شریف میں اولاد کی جانب سے میت کے لئے صدقہ کرنیکی وضاحت ہے اسلئے علماء کرام فرماتے ھیکہ اگر اولاد اپنے فوت شدہ والدین کی جانب سے صدقہ کرے تو اسکا اجرو ثواب انکو ملیگا تو یہ میت کے لئے ایصال ثواب کے دو طریقے مسنون میت کے لئے دعا کرنا اور میت کی طرفسے صدقہ کرنا
اسطرح مرنے والا اپنی زندگی میں ان کاموں کو انجام دے جنکا تذکرہ احادیث مبارکہ میں موجود ہے تو یہ اسکے حق میں صدقہ جاریہ ہوگا اور مرنے کے بعد بھی اسکے لئے اجر و ثواب کا سلسلہ جاری رھیگا
حضرت ابو ھریرہ سے روایت ھیکہ نبئ کریم نے ارشاد فرمایا جب انسان مرجاتا ہے تو اسکے عمل کا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے سوائے تین چیزوں کے صدقہ جاریہ یا وہ علم جس سے فائدہ اٹھایا جارہا ہو یا نیک اولاد جو اسکے لئے دعا کرے
( مسلم)
یہ تینوں عمل دراصل انسان کے اپنے عمل ہیں جو کسی نہ کسی صورت میں انسان کے مرنے کے بعد بھی جاری رہتے ہیں جیسے صدقہ جاریہ مثلا کوئی مسجد یا مدرسہ بنوایا یا کوئی کنواں کھدوایا اور وقف کردیا تو جب تک انکا وجود قائم رھیگا اور لوگ فیضیاب ہوتے رھینگے تب تک انکا اجرو ثواب میت کو ملتا رھیگا یا وہ علم جسکی اسنے لوگوں میں نشر واشاعت کی مثلا کسی کو قرآن کریم کی تعلیم دی یا درس حدیث اور درس قرآن دیا یا کتابیں وقف کی یا دعوت و تبلیغ کا کام کیا یا کسی کو حافظ قرآن یا عالم دین بنادیا تو جب تک یہ سلسلہ قائم رھیگا میت کو اجرو ثواب ملتا رھیگا
اسطرح نیک و صالح اولاد کا دعا کرنا اور نبئ کریم نے اولاد کو خود انسان کی کمائی بتلایا ہے جسکا احادیث میں تذکرہ موجود ہے
تو میت کے لئے ایصال ثواب کے مسنون طریقے جنکی وجہ میت کو فائدہ ہوتا ہے اور اجر وثواب ملتا ہے
میت کے حق میں دعا کرنا یا میت کی جانب سے صدقہ کرنا یا میت کا اپنی زندگی میں صدقہ جاریہ والا عمل کرنا اور علم نافع یعنی نفع بخش علم اسطرح اسکے علاوہ میت کے ایصال ثواب کے لئے ایسے طریقے اپنائے جاتے ہیں جنکا قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں کوئی تذکرہ نہیں ہے اس سے بچنا چاہئے
اللہ تعالی ہمیں قرآن کریم اور احادیث مبارکہ کی تعلیمات پر عمل کرنیکی توفیق عطا فرمائے
Comments
Post a Comment