"ماں کی چھاؤں"از: حفصہ بیگ بنت الطاف بیگ۔


"ماں کی چھاؤں"
از: حفصہ بیگ بنت الطاف بیگ۔

کمرے میں شام اتر چکی تھی۔
پردوں کے پیچھے سے سنہری دھوپ کا آخری کنارہ دیوار پر رینگ رہا تھا۔
چائے کی بھاپ اُٹھ رہی تھی، اور احمد کھڑکی کے پاس بیٹھا جیسے کسی اور زمانے میں چلا گیا ہو۔
آہستہ سے بولا،
“تم جانتی ہو ثریا… میری ماں بھی ایسی ہی تھیں۔ ہر صبح وہ پورے گھر میں روشنی بن کر پھیل جاتیں۔ ان کے ہاتھ کی روٹی میں برکت تھی، ان کے صبر میں سکون۔ میں ہمیشہ سوچتا ہوں، کاش تم بھی اُن جیسی ہو جاؤ…”
ثریا نے کچھ نہ کہا، بس مسکرا کر نظریں جھکا لیں۔ مگر دل کے کسی گوشے میں ایک ہلکی سی تھکن اُتر گئی۔
اسی گھر کے دوسرے کمرے میں زینب اپنی ماں کے صندوقچے کے پاس بیٹھی تھی۔
پرانے دوپٹے، زرد تصویریں، اور وہ خوشبو جو برسوں کے فاصلے کے باوجود مٹتی نہیں تھی۔
زینب نے تصویر کو چھوا، جیسے ماں کا چہرہ اپنی ہتھیلی میں محسوس کرنا چاہتی ہو۔
نرم آواز میں بولی،
“امی… آپ نے سب کو دیا، مگر خود کے لیے کچھ نہیں رکھا۔
آپ نے خواب دیکھے ضرور، مگر پورے نہیں کیے۔ میں نہیں چاہتی میری زندگی بھی آپ جیسی ہو… میں وہ خاموشی نہیں چُنوں گی جو آپ نے اوڑھ لی تھی۔”
وقت کی سانسوں کے بیچ، ایک ہی ماں کے دو بچے دو مختلف دعائیں مانگ رہے تھے —
بیٹا چاہتا تھا کہ اس کی بیوی ماں جیسی ہو،
اور بیٹی دعا کرتی تھی کہ اس کی زندگی ماں جیسی کبھی نہ ہو۔
بیٹے نے وہ محبت دیکھی تھی جو ماں نے بانٹی،
وہ کھانے جو اُس نے پکائے،
وہ صبر جو اُس نے سیکھ لیا۔
مگر بیٹی نے وہ خواب دیکھے جو ماں نے دفن کر دیے،
وہ آنسو جو اُس نے چھپا لیے،
وہ خاموشی جو اُس کے حصے میں آئی۔
احمد کے لیے ماں کی قربانی سکون تھی،
زینب کے لیے وہی قربانی خطرہ۔
اور حقیقت… ان دونوں کے درمیان کہیں سانس لیتی رہی۔
فرق کسی کی نظر میں نہیں تھا —
فرق تو اُس سبق میں تھا
جو ہر بچے نے اپنی ماں کی کہانی سے سیکھا۔۔۔۔
 "کبھی کبھی ماں کی خاموشی سب سے گہری چیخ ہوتی ہے — جو صرف بیٹیاں سن پاتی ہیں۔"

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔