سفرنامۂ دہلی۔۔تحریر: محمد مجاہد محمد صابر(اسسٹنٹ ٹیچر، مولانا علی میاں ندوی ن.پ. اردو پرائمری اسکول، چاندور بازار ضلع ۔امراوتی ریاست ۔مہاراشٹرا)


 سفرنامۂ دہلی۔۔
تحریر: محمد مجاہد محمد صابر
(اسسٹنٹ ٹیچر، مولانا علی میاں ندوی ن.پ. اردو پرائمری اسکول، چاندور بازار ضلع ۔امراوتی ریاست ۔مہاراشٹرا)
 سفر کا آغاز : 
دہلی کا سفر میرے لیے زندگی کے حسین اور یادگار لمحات میں سے ایک تھا۔
جب چاندور بازار سے روانگی کا وقت آیا تو دل میں ایک عجیب سا جوش اور بے قراری تھی۔
ساتھی اساتذہ، دوستوں اور طلبہ کی دعائیں دل میں گونج رہی تھیں۔
ریل کے پہیوں کی چھک چھک، کھڑکی سے گزرتے کھیت، درخت اور اسٹیشن — سب منظر جیسے کسی خواب کی تعبیر بن گئے تھے۔یہ احساس دل میں تھا کہ منزل خاص ہے، جہاں میری زندگی کی محنتوں کا ایک سنگِ میل میرا منتظر ہے۔
 دہلی کا پہلا تاثر : 
جب دہلی کے اسٹیشن پر قدم رکھا، تو ایک ساتھ کئی احساسات نے دل کو گھیر لیا۔ یہ وہی دہلی تھی جس کے بارے میں تاریخ کی کتابوں میں پڑھا تھا — بادشاہوں کا شہر، علم و تہذیب کا مرکز، اور اولیائے کرام کی سرزمین۔ لیکن موجودہ دہلی کو دیکھ کر دل اداس ہو گیا۔ بزرگانِ دین اور بادشاہوں کی قبروں کے اردگرد کی بے حرمتی اور غفلت نے روح کو جھنجھوڑ دیا۔ یہ سوچ کر دل بھر آیا کہ جن مقبروں پر کبھی علم و ادب کے چراغ روشن تھے، آج وہ ویران پڑے ہیں۔
 غالب اکیڈمی دہلی کا منظر اور تقریب کی خوبصورتی : 
دہلی میں واقع غالب اکیڈمی ایک خوبصورت اور پُراثر مقام ہے —
جہاں ادب، زبان اور تہذیب کی خوشبو ہر گوشے سے محسوس ہوتی ہے۔
اس کی فضا میں غالبؔ کے اشعار کی گونج، علم و فن کی روشنی اور محفل کی رونق ایک خاص روحانیت پیدا کرتی ہے۔
اسی اکیڈمی کے وسیع ہال میں نیشنل اردو ٹیچرز ایوارڈز پروگرام نہایت شاندار انداز میں منعقد ہوا۔
اس پروگرام کے صدرِ مجلس محترم واصل علی گُرجَر صاحب کی موجودگی نے تقریب کو وقار عطا کیا۔
ان کے چہرے سے اساتذہ اور تعلیم سے محبت کا سچا جذبہ جھلک رہا تھا۔
انہوں نے اپنی تقریر میں معلمین کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور تعلیم کو قوم کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا۔
ان کی گفتگو نے سامعین کے دلوں میں ایک نئی اُمید اور ولولہ پیدا کیا۔
پروگرام کی نظامت جناب عابد خان صاحب نے نہایت خلوص اور جوش سے انجام دی۔
ان کی گفتگو میں روانی، الفاظ میں اثر، اور دل سے نکلنے والی سچائی محسوس ہوتی تھی۔
ان کی آواز میں جو جذبہ تھا، اس نے محفل کو زندگی بخشی۔
اس کے بعد جناب امتیاز رفیق صاحب کی نظامت اور ان کی شاندار شاعری نے ماحول کو مزید پُررونق بنا دیا۔
ان کی انگریزی بولنے کی مہارت، لب و لہجے کی روانی، اور گفتگو کا سلیقہ واقعی قابلِ تعریف تھا۔
انہوں نے علمی و ادبی توازن کے ساتھ محفل کو جوڑ کر رکھا،
اور ان کی موجودگی نے پروگرام کو ایک بین الاقوامی رنگ عطا کیا۔
اسی طرح ناندیڑ کے سافٹ ویئر انجینئر صاحب کا اُمت کی خدمت کا جذبہ دلوں کو چھو گیا۔
ان کی باتوں میں خلوص، دردِ دل، اور تعلیم کے ذریعے قوم کی ترقی کا خواب جھلکتا تھا۔
یہ سب سن کر محسوس ہوا کہ اردو برادری کے ہر طبقے میں خدمتِ خلق کا شعور بیدار ہے۔
پروگرام میں مختلف اساتذہ نے بہترین تلاوتِ قرآن، حمد و نعت بھی پیش کیں،
جنہوں نے محفل کو روحانی رنگ میں رنگ دیا۔
ان کی خوش الحانی اور جذبے نے دلوں کو سکون دیا اور سامعین کو متاثر کیا۔
آخر میں پورے پروگرام کی انتظامیہ ٹیم نے جس محنت، لگن اور اتحاد سے تقریب کو کامیاب بنایا،
وہ واقعی لائقِ تحسین ہے۔
ہر رکن کے چہرے پر خوشی اور فخر کی جھلک دیکھی جا سکتی تھی۔
یہ محفل صرف ایک تقریب نہیں بلکہ اساتذہ کی قربانی، خدمت اور اخلاص کا جشن بن گئی تھی۔
 تاریخی دہلی کی سیر :
ایوارڈ کے بعد دہلی کے تاریخی مقامات کی سیر ایک ناقابلِ فراموش تجربہ تھی۔
لال قلعہ کی شان، قطب مینار کی بلندیاں، جامع مسجد کی روحانیت،
اور ہمایوں کے مقبرے کی نفاست — ہر جگہ ماضی کی عظمت بولتی محسوس ہوئی۔
سنگِ مرمر پر کندہ آیات اور نقش و نگار جیسے وقت کے صفحوں پر زندہ تھے۔
لیکن ساتھ ہی دل میں دکھ تھا کہ یہ آثار وقت کی گرد میں ڈھک چکے ہیں،
اور ان کی حفاظت کے لیے اب بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
 واپسی کا منظر — دہلی سے چاندور بازار کا سفر
ایوارڈ کی تقریب اختتام کو پہنچی،
غالب اکیڈمی کی روشنیاں مدھم ہونے لگیں،
اور دل کے اندر ایک عجب سی اداسی چھا گئی۔
دہلی کی گلیاں، عمارتیں، اور وہ محفل جیسے الوداع کہنے لگی تھیں۔
صبح سویرے دہلی اسٹیشن پر رخصتی کا منظر کچھ اور ہی تھا۔
ساتھی اساتذہ کے چہروں پر خوشی اور جدائی کا امتزاج صاف نظر آ رہا تھا۔ کسی کے ہاتھ میں چائے کا کپ، کسی کے کندھے پر بستہ،اور سب کے دلوں میں ایک ہی جذبہ —کہ ہم نے ایک ساتھ یادگار لمحے گزارے،
اب یہ لمحے یادوں کا خزانہ بن کر دل میں رہ جائیں گے۔
ریل کے پلیٹ فارم پر الوداعی مصافحے اور دعاؤں کے جملے گونج رہے تھے:
 “اللہ حافظ، رابطے میں رہنا…”
“یہ سفر بھلایا نہ جائے گا…”
“پھر کبھی ملاقات ہو تو ایسے ہی جذبے کے ساتھ…”
جب ریل گاڑی نے ہلکا سا جھٹکا دیا اور آہستہ آہستہ چلنے لگی،
تو دل جیسے اسٹیشن پر ہی رک گیا۔
کھڑکی سے ہاتھ ہلاتے ہوئے جب دوستوں کے چہرے دور ہوتے گئے،
تو آنکھوں کے کنارے نم ہو گئے۔
دہلی کی روشنیوں کا عکس جیسے پٹریوں کے ساتھ بھاگتا جا رہا تھا۔ گاڑی کی رفتار کے ساتھ سوچوں کی رفتار بھی تیز ہو گئی —
ہر منظر، ہر آواز، ہر لمحہ یادوں میں بس گیا۔
رات ڈھلتی گئی، اسٹیشن بدلتے گئے، اور دل بار بار کہہ رہا تھا:
“یہ سفر ختم نہیں، بلکہ ایک نئے عزم کی شروعات ہے۔”
صبح جب سورج کی پہلی کرن کھڑکی سے اندر آئی،
تو چاندور بازار قریب تھا —
اور دل میں ایک سکون، ایک شکر، اور ایک نیا حوصلہ۔
یہ سفر صرف دہلی تک محدود نہیں تھا،
یہ علم، جذبہ، اور دوستی کا سفر تھا،
جو ہمیشہ دل کے صفحات پر روشن رہے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔