‎منشی پریم چند کا ادب — آج بھی سماج کی ضرورت
مجیب خان کی پیشکش "آداب، میں پریم چند ہوں" کے ایک ہزار شوز مکمل


‎ممبئی (نمائندۂ خصوصی):
ادب وقت کے ساتھ ضرور بدلتا ہے، مگر منشی پریم چند کی تحریریں آج بھی سماج کے ضمیر کو جھنجھوڑتی ہیں — کیونکہ ان کا رشتہ انسانی اور سماجی بنیادوں سے جڑا ہوا ہے۔ صدی گزر جانے کے باوجود ان کے افکار اور کہانیوں کی خوشبو آج بھی زندہ ہے، اور اس خوشبو کو زندہ رکھنے کا بیڑا معروف تھیٹر فنکار مجیب خان اور ان کی تنظیم آئیڈیا  نے اٹھا رکھا ہے۔
‎گزشتہ دو دہائیوں سے پیش کی جانے والی تھیٹر سیریز "آداب میں پریم چند ہوں" نے اب ایک ہزار سے زائد کامیاب شوز مکمل کر لیے ہیں — جو اردو تھیٹر کی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔
‎ادبی ناقد صادق انصاری کے مطابق:
‎"یہ ڈرامے صرف اسٹیج پر پیش نہیں کیے جاتے بلکہ اردو ادب کی روح کو نئی تازگی اور زندگی بخش سانسیں فراہم کر رہے ہیں۔ آج جب اکثر سمیناروں میں اردو ڈرامے پر مرثیے پڑھے جا رہے ہیں، ایسے میں مجیب خان آئیڈیا کے پلیٹ فارم سے اپنے ہنرمند فنکاروں کے ساتھ پریم چند کی کہانیوں کو اسٹیج پر زندہ رکھے ہوئے ہیں، اور یوں اردو ڈرامے کو مرثیہ خوانی سے بچا رہے ہیں۔"
‎اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے اس سیریز کا نیا شو اتوار، 2 نومبر، رات 7:30 بجے شکنتلم اسٹوڈیو، اندھیری (ممبئی) میں پیش کیا جا رہا ہے، جس میں منشی پریم چند کی چار لازوال کہانیاں — " بڑے بھائی صاحب", "مکتی دھن", "اماوس کی رات", اور " بڑے گھر کی بیٹی" — اسٹیج پر پیش کی جائیں گی۔
‎یہ چاروں کہانیاں انسان کے باطن، اخلاق اور سماجی رشتوں کی آئینہ دار ہیں:
* "بڑے بھائی صاحب" میں نصیحت کے پردے میں محبت چھپی ہے۔
* "مکتی دھن" مذہب کی تنگ دیواروں سے آزاد انسانیت کو پیش کرتی ہے۔
* "اماوس کی رات" غربت کے اندھیروں میں روشنی کی تلاش ہے۔
* اور " بڑے گھر کی بیٹی" وقار، خودداری اور خاندانی احترام کی علامت بن کر سامنے آتی ہے۔
‎اردو تھیٹر کے شائقین کے لیے یہ محض ایک ڈراما نہیں بلکہ ادبی روایت کی تجدید ہے۔
‎رابطہ برائے مزید معلومات:
 9821044429

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔