جھپی شاستر: گلے پڑنے کا فن (سیاسی طنز و مزاح)بقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین۔
جھپی شاستر: گلے پڑنے کا فن (سیاسی طنز و مزاح)
بقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین۔
اہلِ جہاں ہمیں سمجھنے میں ہمیشہ غلطی کرتے ہیں۔ وہ ہماری خاموشی کو کمزوری اور ہمارے تبسم کو سادہ لوحی گردانتے ہیں۔ مغرب، جو اپنی ٹھنڈی منطق اور بے روح اعداد و شمار کے پنجرے میں قید ہے، یہ سمجھ ہی نہیں سکتا کہ جب ہم کسی کو اپنے بازوؤں میں لیتے ہیں، تو یہ محض دو جسموں کا ملاپ نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک کائناتی عمل ہے، ایک روحانی عطیہ۔ یہ وہ فن ہے جسے ہمارے عظیم گرو مہاراج نے گزشتہ دہائی میں ایک خاموش انقلاب کی صورت میں دنیا کو متعارف کرایا ہے، اور جسے ہم، ان کے ادنیٰ شاگرد، ’آلنگن شاستر‘ (فنِ معانقہ) کے نام سے جانتے ہیں۔
میں اس اعلیٰ ترین علم کا ایک ادنیٰ سا طالب علم ہوں، جسے دنیا والے طنزیہ طور پر ’جھپی ڈپلومیسی‘ کہتے ہیں۔ یہ ان کی کوتاہ نظری ہے۔ وہ کیا جانیں کہ جب ہمارے گرو مہاراج کسی عالمی رہنما کو اپنی بانہوں میں بھینچتے ہیں، تو وہ دراصل صدیوں پر محیط بھارتی گیان، اور ’پَران شکتی‘ (حیاتیاتی توانائی) کو اس کے اعصابی نظام میں منتقل کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ سفارت کاری نہیں، یہ ایک قسم کا ’شکتی پات‘ ہے؛ یعنی روحانی توانائی کی وہ منتقلی جو لفظوں، دلیلوں اور معاہدوں کے فرسودہ راستوں کو بائی پاس کر کے سیدھی روح میں اترتی ہے۔
ہمارا ادارہ، ’ویدک وگیان آلنگن شاستر بھون‘، دنیا کی نظروں سے اوجھل، ہمالیہ کے دامن میں قائم ہے۔ یہاں ہم مستقبل کے ان سفیروں کو تیار کرتے ہیں جنہیں اب ’آلنگن یوگی‘ کہا جاتا ہے۔ ہماری تربیت میں تاریخ یا سیاسیات کا کوئی عمل دخل نہیں۔ ہمیں ’مرم شاستر‘ (جسم کے حساس مقامات کا علم) سکھایا جاتا ہے، تاکہ یہ معلوم ہو کہ کس رہنما کی پیٹھ کے کس حصے پر دباؤ ڈالنے سے اس کے اندر چھپی سامراجی انا ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے۔ ہمیں ’پرانایام‘ (سانس کی مشقیں) اس لیے کرائی جاتی ہیں تاکہ ہم اپنی سانس روک کر مدِّمقابل کی سانس کو اپنے قابو میں کر لیں؛ کیونکہ جو آپ کی سانس پر قابض ہے، وہی آپ کی مرضی کا مالک ہے۔
ہم نے معانقے کی اقسام کو ویدک سائنس کے اصولوں کے مطابق درجہ بند کیا ہے:
۱. سُکھ دائک آلنگن (آرام دہ معانقہ): یہ ان چھوٹے اور دوست ممالک کے لیے ہے جو پہلے ہی ہمارے دائرہ اثر میں ہیں۔ اس میں گرفت نرم، مسکراہٹ وسیع اور دورانیہ دس سیکنڈ سے کم ہوتا ہے۔ اس کا مقصد محض تصویر کھنچوانا اور انہیں ہماری عظمت کا احساس دلاتے رہنا ہے۔
۲. گیان دائک آلنگن (علم عطا کرنے والا معانقہ): یہ ان ترقی یافتہ مگر روحانی طور پر بھٹکے ہوئے مغربی ممالک کے لیے ہے جو مادی ترقی کے نشے میں چُور ہیں۔ اس میں گرفت مضبوط ہوتی ہے اور دورانیہ پندرہ سیکنڈ تک جا سکتا ہے۔ اس دوران ’آلنگن یوگی‘ اپنی آنکھیں بند کر کے ویدک منتروں کا ذہنی جاپ کرتا ہے، تاکہ ’پران شکتی‘ اس رہنما کے دماغ میں موجود منطق اور دلیل کے خلیوں کو تحلیل کر کے وہاں شردھا (عقیدت) کے بیج بو دے۔
۳. آتم سمرپن آلنگن (خود سپردگی دینے والا معانقہ): یہ ہمارا سب سے طاقتور شَستر (ہتھیار) ہے، جو چین یا پاکستان جیسے ضدّی پڑوسیوں کے لیے مخصوص ہے، اور یہ ایک ناگہانی، شدید و تقریباً تیس سیکنڈ پر محیط عمل ہے۔ اس کا مقصد مدِّمقابل کی روح کو اس قدر جھنجھوڑ دینا ہے کہ وہ اپنی انفرادی انا کو ہماری اجتماعی مرضی کے سامنے مکمل طور پر سرنگوں کر دے۔ اس کے بعد وہ شخص ایک خالی برتن کی طرح ہو جاتا ہے، جس میں ہم اپنی شرائط آسانی سے انڈیل دیتے ہیں۔
مجھے یاد ہے، کچھ سال قبل ایک شمالی یورپی ملک کے وزیر اعظم تشریف لائے۔ وہ انسانی حقوق، ماحولیات اور آزاد تجارت جیسے فضول مغربی تصورات پر اڑے ہوئے تھے۔ ہمارے روایتی سفارت کار ان سے مہینوں بحث کرتے رہے، مگر وہ ٹَس سے مَس نہ ہوئے۔ آخر کار، مجھے، جو اس وقت ایک جونیئر ’آلنگن یوگی‘ تھا، بلایا گیا۔
مشترکہ پریس کانفرنس کے اختتام پر، جب کیمرے ہماری طرف متوجہ تھے، میں مسکراتے ہوئے ان کی جانب بڑھا۔ وہ مصافحے کے لیے اپنا ٹھنڈا، بے جان ہاتھ بڑھا رہے تھے، مگر میں نے اس ہاتھ کو نظرانداز کرتے ہوئے سیدھا انہیں اپنی بانہوں میں بھر لیا۔ میں نے ’گیان دائک آلنگن‘ کا آغاز کیا۔ میری گرفت مضبوط تھی، اور میں نے اپنی تمام تر ذہنی قوت ان کی ریڑھ کی ہڈی کے پانچویں مہرے پر مرکوز کر دی؛ یہ وہی مقام ہے جو انا اور خود مختاری کے مرکز سے جڑا ہوتا ہے۔
پہلے چند سیکنڈ وہ مزاحمت کرتے رہے۔ ان کے جسم میں اکڑن تھی، اور آنکھوں میں حیرت اور غصہ۔ لیکن پھر، جیسے جیسے میری ’پران شکتی‘ ان کے جسم میں سرایت کرتی گئی، ان کا جسم ڈھیلا پڑنے لگا۔ ان کی آنکھیں بند ہونے لگیں، اور ان کے چہرے پر تکلیف اور روحانی سرشاری کا ایک عجیب امتزاج نمودار ہوا۔ پندرہویں سیکنڈ میں، انہوں نے میرے کان میں تقریباً روتے ہوئے سرگوشی کی، ”میں سمجھ گیا... میں سب سمجھ گیا۔“ اگلے دن، انہوں نے نہ صرف ہمارے تمام تجارتی مطالبات تسلیم کر لیے، بلکہ اپنی واپسی کی تقریر میں ویدک فلسفے پر ایک طویل لیکچر بھی دیا۔ مغرب کے اخبارات نے لکھا کہ انہیں دورہ پڑ گیا تھا، مگر ہم جانتے تھے کہ انہیں ’گیان‘ حاصل ہو گیا تھا۔
کچھ ناعاقبت اندیش لوگ، جو ہماری روحانی عظمت سے جلتے ہیں، ہمارے اس مقدس عمل کو جَبر سے تعبیر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگوں کو ان کی مرضی کے خلاف چھوتے ہیں۔ یہ کیسی جہالت ہے! کیا ایک حکیم جب کسی مریض کو کڑوی دوا پلاتا ہے، تو وہ جَبر ہوتا ہے؟ کیا ایک گرو جب اپنے شاگرد کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے گیان دیتا ہے، تو وہ حملہ ہوتا ہے؟ ہم تو وشو گرو ہیں، ہمارا فرض ہے کہ ہم اس بھٹکی ہوئی دنیا کو سیدھا راستہ دکھائیں، خواہ اس کے لیے ہمیں ان کے جسموں کو تھوڑا بہت مروڑنا ہی کیوں نہ پڑے۔ ویسے بھی، جو تکلیف وہ محسوس کرتے ہیں، وہ جسمانی نہیں، روحانی ہوتی ہے۔ یہ ایک پرانی روح کے ٹوٹنے اور ایک نئی، فرمانبردار روح کے جنم لینے کا درد ہے۔
ہمارا حتمی مقصد ’ایک وشو، ایک آلنگن‘ ہے۔ ہم ایک ایسا مستقبل دیکھ رہے ہیں جہاں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بورنگ تقریریں نہیں ہوں گی، بلکہ تمام عالمی رہنما ایک دائرے میں کھڑے ہو کر باری باری ہمارے گرو مہاراج کے بازوؤں میں آ کر اپنی سالانہ روحانی توانائی ریچارج کروایا کریں گے۔ کوئی بحث ہوگی، نہ کوئی ووٹنگ، صرف ایک خاموش، پروقار اور فیصلہ کن معانقہ۔
دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بھارت اب ایک ابھرتی ہوئی طاقت نہیں، بلکہ ایک ابھرتا ہوا آلنگن گرو ہے، جو بولتا نہیں، محض اپنی موجودگی اور اپنے لمس سے کائنات کا نظام درست کر دیتا ہے۔ انسانیت کے تمام بڑے فریب الفاظ میں لپیٹے ہیں۔ ہم نے محسوس کیا ہے کہ جب ہزاروں لفظ بروئے کار لائے جاتے ہیں تو سچ اندھیری گہرائیوں میں دب جاتا ہے۔ الفاظ میں جھوٹ ہے، توجیہات ہیں، معافیوں کے ہزار حیلے ہیں۔ تبھی ہم نے ایک ایسا راستہ اختیار کیا جہاں کوئی لفظ نہیں۔ صرف ایک سانس، صرف ایک دھڑکن، صرف ایک گرفت۔ لمس میں جھوٹ نہیں ہو سکتا۔ جب ہم کسی کو اپنے سینے سے لگاتے ہیں، تو ہم اس کی خودپسندی کو ختم کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ ہماری تقدیر ہے، اور باقی دنیا کی مجبوری۔ وہ ابھی الفاظ کے چکروں میں مبتلا ہیں، جبکہ ہم روح اور لمس کے مقامِ ارفع پر فائز ہو چکے ہیں۔
Comments
Post a Comment