مرغے کی قربانی، دوست کی مہربانی۔ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین (اکولہ،مہاراشٹر)
مرغے کی قربانی، دوست کی مہربانی۔
ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین (اکولہ،مہاراشٹر)
یادداشت اور قرض، وہ دو بلائیں ہیں جو جتنی پرانی ہوں، اتنی ہی لاعلاج ہوتی جاتی ہیں۔ فرق صرف اتنا کہ یادیں روح کو کھرچتی ہیں اور قرض عزت کو۔ کچھ رشتے تو ان دونوں کا ایسا سنگم ہوتے ہیں کہ نہ بھولے جا سکتے ہیں، نہ چکائے۔ ان میں سرفہرست وہ دوستی ہے جسے کم عمر عقیدت مند 'یارِ غار' اور جہاں دیدہ بزرگ 'خارِ یار' کہتے ہیں۔ اسی دوستی کی تکون کا تیسرا کونا اکثر پڑوسی ہوتا ہے۔ ہمارے ایک دوست، شاہ صاحب، تو پڑوسی کی تعریف میں یہاں تک گئے ہیں کہ 'پڑوسی وہ صاحبِ کشف و کرامات ہستی ہے جسے دیوار کے اُس پار سے یہ الہام ہو جاتا ہے کہ آپ کی دیگچی میں کیا پک رہا ہے، کتنا پک رہا ہے، اور سب سے اہم یہ کہ اس میں سے اس کا حصہ کتنا بنتا ہے۔' چنانچہ ایک کی دعوت دوسرے کے لیے خطرے کی گھنٹی بن جاتی ہے، خصوصاً جب میزبان کی جیب اور دیانت، دونوں ہی محکمہ موسمیات کی طرح ناقابلِ اعتبار ہوں، جن پر بھروسا کر کے آدمی چھتری گھر بھول آئے تو بارش یقینی ہے۔والدِ مکرم فرمایا کرتے تھے کہ دنیا میں تین چیزوں پر کبھی بھروسہ نہ کرنا:گھوڑے کی پچھلی لات، سیاستدان کی بات، اور اس دوست کی اوقات، جس کا کاروبار اس کی عقل سے بڑا ہو۔
انہی دنوں ہمارے پڑوس میں ایک ماسٹر شرف الدین رہا کرتے تھے۔ ریٹائرڈ، نحیف و نزار، مگر شوق ایسے پال رکھے تھے جو نوابوں کو بھی مات دیں۔ انہوں نے بڑی جانفشانی سے کچھ اصیل مرغ پالے تھے۔ ان میں ایک مرغا کیا تھا، چلتا پھرتا نادر شاہی تختِ طاؤس تھا۔ اس کی بانگ میں شاہی نوبت کی گونج تھی اور چال میں تیموری شکوہ۔ ماسٹر جی اسے "شہنشاہ" کہہ کر پکارتے اور اس کی خوراک کا خیال اپنی پنشن سے زیادہ رکھتے۔ اس کا ایک نائب بھی تھا، "ولی عہد"، جو ابھی سے اپنے پیشرو کے نقشِ قدم پر چلنے کی تربیت پا رہا تھا۔
ہمارے والد صاحب کی جیب اور مہینے کی آخری تاریخوں میں ہمیشہ سے چھتیس کا آنکڑا رہا۔ مگر آدمی تھے بڑے جگاڑو ،لیکن فضول خرچی کے چلتے ہاتھ اکثر تنگ ہی رہتا۔ اتفاق دیکھیے کہ والد صاحب کے اسی اکلوتے "جگری دوست" کا پیغام بھی ٹھیک اسی ہفتے آیا جب گھر میں برکت اٹھ چکی تھی۔ دوست کی تواضع بھی لازم تھی اور گھر کی حالت بھی ہم پر واضح تھی۔ وہ دوست، جن کی کاروباری سلطنت یوں پھیل رہی تھی جیسے عمر رسیدہ شخص کا پیٹ، جو اندر سے کھوکھلا اور باہر سے پرشکوہ نظر آتا ہے۔
مگر والد صاحب نے آسمان کی طرف دیکھا، پھر پڑوس کی چھت کی طرف، اور چپکے سے ’خصوصی انتظام‘ کا حکم صادر فرما دیا۔
اگلی صبح ماسٹر جی کا "شہنشاہ" پراسرار طور پر لاپتہ تھا۔ اُسی دوپہر والد صاحب کے چہرے پر ایک ایسی فاتحانہ مسکراہٹ تھی جیسے انہوں نے دوست کی میزبانی کا نہیں، اپنی عزت بچا لینے کا کوئی قلعہ فتح کر لیا ہو۔ اُدھر ماسٹر جی کا ایک دوسرا مرغا، جسے وہ "ولی عہد" کہا کرتے تھے، اس صدمے سے ایسا سہما کہ اس نے بانگ دینا ہی چھوڑ دیا۔ بس سارا دن کُٹ کُٹ کرتا، جیسے کسی قومی ادارے کا سربراہ ہو جو صرف فائلوں پر نوٹ لکھ سکتا ہے، بول نہیں سکتا۔
ہم نے والد صاحب سے پوچھا، ”ابا جان، یہ تو سراسر زیادتی ہے!“
والد صاحب نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور بولے، "بیٹا، اسی کا نام ضرورت ہے۔ اور جب ضرورت اور دوستی ایک ساتھ دروازے پر آ کھڑے ہوں، تو پڑوسی کا مرغا حلال ہو جاتا ہے۔"
اور ہم آج تک اسی حساب میں گم ہیں کہ دوستی کی بھینٹ چڑھ کر ’حلال‘ ہونے والے اس مرغے کی اصل قیمت کون ادا کرتا ہے؟ وہ جس کا مرغا جاتا ہے، یا وہ جو اس زیادتی کو دیکھ کر بھی چپ رہتا ہے۔ شاید دونوں ہی کرتے ہیں، بس ایک کی جیب کٹتی ہے اور دوسرے کا ضمیر۔
یہی منظر نامہ، کچھ ترمیم و اضافے کے ساتھ، آج کل قومی سطح پر دہرایا جا رہا ہے۔ بس کرداروں کے نام اورپہچان بدل گئی ہے ۔ دوست کی جگہ ایک ایسے ’قومی دوست‘نے لے لی ہے جن کا کاروباری عارضہ ایک ایسے خاندانی مرض کی طرح ہے جو ہر نسل میں نئے نام سے ظاہر ہوتا ہے اور جس کا علاج ہر نئی حکومت پچھلی سے زیادہ اہتمام سے کرتی ہے۔ مگر بقول شاعر: "مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔"
ہوا کچھ یوں کہ ہمارے ان قومی دوست کی کاروباری صحت، جو پہلے ہی ہنڈ نبرگ نامی ایک امریکی حکیم کی تشخیص سے متزلزل تھی، نئے انکشافات کے بعد مشرف بہ مرگ ہو گئی۔ یورپ اور امریکہ کے بڑے بڑے مالیاتی شفاخانوں نے صاف کہہ دیا کہ اس مریض کا علاج اب کسی معجزے یا ’بیل آؤٹ پیکیج‘ نامی حیلہءشرعی سے ہی ممکن ہے۔ دوست پر قرضوں کا بھوت سوار تھا اور عالمی ساکھ کا جنازہ اٹھنے کو تیار۔ ایسے میں گھر کے سربراہ، یعنی حکومتِ وقت، کو اپنی دوستی نبھانے کی وہی پرانی فکر لاحق ہوئی جو کبھی ہمارے والد کو ہوئی تھی۔
چنانچہ، جیسا کہ واشنگٹن پوسٹ نامی ایک ’مغربی محلے‘کے کھوجی نے لکھا ہے، ایک خفیہ پنچایت بیٹھی۔ کمرے میں ایسی خاموشی طاری تھی جیسی امتحان کے ہال میں نگران کے عین سر پر آ کھڑے ہونے پر ہوتی ہے۔ سب کی نظریں میز پر رکھی چائے کی پیالیوں پر تھیں، گویا قومی مفاد کا حل اسی چائے کی پتی میں کہیں چھپا ہو۔ آخرکار سب سے سینئر اہلکار، جنہیں احباب از راہِ تفنن "چانکیہ ثانی" کہتے ہیں، نے کھنکار کر گلا صاف کیا اور فرمایا، "قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ دوست کو... مایوس نہ کیا جائے۔"
سب نے یوں سر ہلایا جیسے کسی آئن سٹائن نے ابھی ابھی کائنات کا آخری راز فاش کیا ہو۔ بس پھر کیا تھا، فیصلہ صادر ہوا کہ پڑوسی (LIC) کو ’سمجھایا بجھایا‘ جائے کہ وہ اپنا سب سے قیمتی اثاثہ، یعنی قوم کے اعتماد کی پونجی، دوست کی صحت پر ’سرمایہ کاری‘ کر دے۔ منطقِ عالیہ یہ پیش کی گئی کہ اس ’ایثار‘ سے دوست پر اعتماد بحال ہوگا۔ اسے دیکھ کر ہمیں تو اپنے کالج کے زمانے کے معاشیات کے پروفیسر یاد آگئے جو ایڈم اسمتھ کے ’غیر مرئی ہاتھ‘ کا ذکر کرتے تھے کہ "ایک غیر مرئی ہاتھ'معیشت کو چلاتا ہے۔" مگر ہمارے ہاں تو وہ ہاتھ اتنا مرئی ہو چکا ہے کہ اب سیدھا عوام کی جیب میں ہی پایا جاتا ہے۔
وزارتِ خزانہ نے دلیل دی کہ دوست کے بانڈز پر منافع سرکاری بانڈز سے کہیں زیادہ ملے گا۔ یہ ایسے ہی تھا جیسے کوئی کہے کہ شیر کی کچھار میں ہاتھ ڈالنا زیادہ منافع بخش ہے بہ نسبت اپنی جیب میں ہاتھ ڈالنے کے، حالانکہ اس میں ہاتھ سلامت رہنے کی گارنٹی ذرا کم ہوتی ہے۔ اس ممکنہ خطرے کو قومی مفاد کی ایسی خوشنما چادر میں لپیٹ کر پیش کیا گیا کہ سب کو لگا کہ وہ ایک خطرناک جوا نہیں، بلکہ ملک کی سلامتی کے لیے ایک مقدس فریضہ سرانجام دینے جا رہے ہیں۔ اس ’قریبی‘ تعلق پر جب انگلیاں اٹھیں تو دوست کے ترجمان نے فرمایا کہ یہ تاثر دینا کہ ہمیں ترجیح دی گئی، گمراہ کن ہے۔ یہ بیان سن کر ہمیں غالب کا وہ مصرعہ یاد آ گیا، جو اس صورتحال پر ایک نئی معنویت کے ساتھ چسپاں ہوتا ہے۔
قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
یہاں تو فاقہ مستی کا رنگ عوام کے چہرے پر زردی بن کر اور دوست کے چہرے پر لالی بن کر دوڑنے کا پورا انتظام کیا جا رہا تھا۔ یہ ایک ایسی مقدس شراکت داری ہے جسے کچھ لوگ ’کرونی کیپیٹلزم‘ کا جدید نام دیتے ہیں۔ ہم تو اسے سادہ زبان میں ’دوستانہ معاشیات‘ کہتے ہیں۔ اس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ منافع دوست کا اور خسارہ قوم کا۔
آج جب ہم اس پورے قضیے پر نظر ڈالتے ہیں تو ماسٹر شرف الدین کا اداس چہرہ آنکھوں میں گھوم جاتا ہے۔ ایل آئی سی کے کروڑوں پالیسی ہولڈرز آج اُسی ماسٹر جی کی جگہ کھڑے ہیں، جن کا پالا پوسا "شہنشاہ" ایک قومی دوست کی دعوت کی بھینٹ چڑھ گیا۔ اور ملک کے باقی ادارے اس "ولی عہد" کی طرح سہمے ہوئے ہیں جو بانگ دینا بھول چکا ہے۔ انہیں ایک پیچیدہ سا کاغذ تھما دیا گیا ہے جس پر لکھا ہے کہ مستقبل میں انہیں اس قربانی کا شاندار منافع ملے گا، بشرطیکہ دوست کی صحت ٹھیک رہے اور وہ مزید بیمار نہ پڑیں۔
اور ہم آج تک اسی حساب میں گم ہیں کہ پڑوسی کا ایک مرغا زیادہ قیمتی تھا یا قوم کا اجتماعی ضمیر؟ شاید دونوں کی قیمت ایک ہی وقت میں لگائی گئی تھی، اور خریدار بھی ایک ہی تھا۔ فرق صرف یہ ہے کہ مرغا تو ایک دن میں ہضم ہو گیا، مگر ضمیر کا بوجھ نسلیں اٹھائیں گی۔ اور شاید قومی مفاد اسی بوجھ کا دوسرا نام ہے، جسے اٹھانے والے ہمیشہ وہ ہوتے ہیں جو دسترخوان پر شریک نہیں ہوتے۔
Comments
Post a Comment