عدل کا سورج (قسط 06) تحریر و تخلیق: شیخ فردین۔

 عدل کا سورج (قسط 06)
 تحریر و تخلیق: شیخ فردین۔ 

(طلوعِ صبح، قلعے کی فصیل پر سورج کی روشنی، پرندوں کی چہچہاہٹ)

راوی:
"اندھیری رات کے بعد جب سورج طلوع ہوتا ہے،
تو وہ صرف روشنی نہیں، انصاف بھی لاتا ہے۔"

بادشاہ آرِف کی قبر پر گیا۔
ہوا میں قرآن کی آیات گونج رہی تھیں۔

بادشاہ:
"اے آرِف، تمہاری وفا نے اس سلطنت کو زندہ رکھا۔
میں نے تمہارے خون سے وعدہ پورا کر دیا —
غدار اپنے انجام کو پہنچ گیا۔"

(پچھلے پس منظر میں اذان کی صدا)

راوی:
"یوں دہلی نے ایک سبق سیکھا —
طاقت سے نہیں، ایمان سے سلطنتیں بچتی ہیں۔
وفا کبھی نہیں مرتی… وہ تاریخ بن جاتی ہے۔"
---
 اختتامیہ:
"خونِ وفا" ایک ایسی داستان ہے جو بتاتی ہے کہ
ایک سپاہی کا ایمان، بادشاہت سے بھی زیادہ طاقتور ہو سکتا ہے۔
وقت بدل جاتا ہے، لیکن وفاداری کا رنگ کبھی نہیں مٹتا۔

---


Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔