غداری کا انجام (قسط۔ 05) (شیخ فردین)
غداری کا انجام (قسط۔ 05)
(شیخ فردین)
(صبح کا منظر، عدالتِ شاہی میں ہجوم، بادشاہ کا چہرہ غصے سے سرخ)
راوی:
"جب بادشاہ خاموش رہتا ہے، تو غدار طاقتور ہوتا ہے —
مگر جب انصاف جاگتا ہے، تو ظلم خود جل جاتا ہے۔"
بادشاہ نے دربار بلایا۔
وزیر فرید خان کو سامنے لایا گیا۔
بادشاہ:
"کیا تم نے سلطنت کا سودا کیا؟"
فرید خان لرزنے لگا —
"جہاں پناہ… میں نے صرف..."
بادشاہ (غصے میں):
"خاموش! تم نے آرِف جیسے سپاہی کی وفا کو مٹی میں ملایا!"
(تلوار نیام سے نکلتی ہے، دربار میں سناٹا چھا جاتا ہے)
راوی:
"اور اس لمحے، عدل نے ظلم کو کاٹ دیا۔
غداری ختم ہو گئی، مگر آرِف کی یاد زندہ رہی۔"
---
Comments
Post a Comment