قاضی مشتاق احمد: اردو ڈرامہ نگاری کی درخشاں روایت کا معتبر نام۔۔تحریر: مجیب خان ۔

قاضی مشتاق احمد: اردو ڈرامہ نگاری کی درخشاں روایت کا معتبر نام۔۔
تحریر: مجیب خان ۔ 

اردو ادب کے منظرنامے پر  افسانہ، ناول اور ڈرامہ نگاری ہمیشہ سے اپنی ایک منفرد پہچان رکھتی ہے۔ یہ صنف محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ سماج کی فکری سمت متعین کرنے اور تہذیبی شعور اجاگر کرنے کا ایک مؤثر وسیلہ ہے۔ اسی روایت کے امین ہیں قاضی مشتاق احمد، جنہوں نے اپنے قلم کے ذریعے نا صرف افسانہ اور ناول کو بلکہ اردو ڈرامے کو بھی نئی جہتیں عطا کیں۔ حال ہی میں انہیں مہاراشٹر راجیہ ساہتیہ اکادمی نے اردو کا سب سے بڑا اعزاز، "مرزا غالب قومی ایوارڈ" عطا کیا ہے، جو نہ صرف ان کی تخلیقی زندگی کا اعتراف ہے بلکہ اردو ڈرامہ نگاری کی تاریخی اہمیت کا بھی اعلان ہے۔

فن کی جہتیں : 
قاضی مشتاق احمد کے ڈرامے محض مکالموں کی ترتیب نہیں بلکہ تاریخ، فکر اور جذبات کے زندہ استعارے ہیں۔ ان کے مقبول ڈراموں میں مرزا غالب کی حویلی، آزاد کا خواب: ہندوستان کی آزادی، شہید بھگت سنگھ، مہاتما جیوتی با پھولے اور رنگِ مجاز شامل ہیں۔ یہ تخلیقات قاری اور ناظر دونوں کو ہندوستان کی فکری اور سیاسی جدوجہد سے روشناس کراتی ہیں۔ قاضی صاحب نے اپنے فن کے ذریعے نہ صرف ماضی کو زندہ کیا بلکہ اس کے تناظر میں حال اور مستقبل کے لیے نئی راہیں بھی متعین کیں۔

ڈرامہ اور تاریخ کا امتزاج : 
ان کے ڈراموں کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ تاریخ کو اسٹیج کی زبان میں ڈھالتے ہیں۔ شہید بھگت سنگھ جیسے ڈرامے انقلابی جذبات کو ابھارتے ہیں، جبکہ مہاتما جیوتی با پھولے سماجی مساوات اور تعلیم کے پیغام کو ناظرین تک پہنچاتا ہے۔ اسی طرح رنگِ مجاز ایک شاعر کی فکر اور اس کی رومانوی و انقلابی شخصیت کو اسٹیج پر زندہ کر دیتا ہے۔ ان کا فن ماضی کی بازیافت کے ساتھ ساتھ عصری مسائل پر روشنی ڈالتا ہے، جو ان کی تخلیقی بصیرت کا پتہ دیتا ہے۔

اسٹیج کی مقبولیت : 
قاضی مشتاق احمد کے ڈرامے متعدد بار  “آئیڈیا” سے اسٹیج پر پیش کیے جا چکے ہیں اور ہر بار عوام نے انہیں بے پناہ پسند کیا۔ یہ مقبولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا فن کتاب کے صفحات تک محدود نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے جو اسٹیج پر بھی اپنی تمام تر اثر انگیزی کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔

ایوارڈ کی معنویت : 
"مرزا غالب قومی ایوارڈ" قاضی مشتاق احمد کی طویل خدمات کا اعتراف ہے۔ یہ ایوارڈ نہ صرف ایک فرد کو ملنے والا اعزاز ہے بلکہ اردو ادب اور ڈرامہ نگاری کے وقار میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ اس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ اردو زبان اپنی تخلیقی روایت اور تہذیبی کردار کے ساتھ آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ ہے۔
قاضی مشتاق احمد کا یہ اعزاز دراصل اردو ادب کے ہر قاری، ناظر اور شائق کے لیے خوشی کا موقع ہے۔ وہ ایک ایسے ادیب ہیں جن کے ڈرامے سماج کو صرف محظوظ نہیں کرتے بلکہ سوچنے اور سمجھنے پر مجبور بھی کرتے ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ ان کا یہ سفر نئی نسل کے ڈرامہ نگاروں کو بھی ترغیب دے گا کہ وہ اردو کی اس شاندار روایت کو آگے بڑھائیں اور اپنے فن کے ذریعے معاشرتی بیداری کی راہیں کھولیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔