ڈھونڈتی ہیں جس کو آنکھیں، وہ تماشہ چاہیے۔۔۔از قلم : طٰہٰ عرف ثناء جمیل احمد نلاّمندو۔ سولاپور۔


ڈھونڈتی ہیں جس کو آنکھیں، وہ تماشہ چاہیے
چشمِ باطن جس سے کھل جائے، وہ جلوہ چاہیے
(اقبال)
از قلم : طٰہٰ عرف ثناء جمیل احمد نلاّمندو معاون معلّمہ پونے مہانگر پالیکا 

          محترم اقبال صاحب کا یہ شعر دور حاضر میں لفظ بہ لفظ انسانی زندگی کے لئے پیغامات چھوڑتا ہے۔زندگی میں ہم اکثر اس چیز کو ترجیح دیتے ہیں جو آسانی سے نظر آ جائے، جو صرف ہماری آنکھوں سے دیکھی جا سکے۔ یہ انسانی فطرت کا حصہ ہے کہ ہم پہلے ظاہری چیزوں کو پہچانتے ہیں، ان کی تعریف کرتے ہیں، اور انہی کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں زندگی کی اصل خوبصورتی اور حقیقت آنکھوں سے نہیں، بلکہ دل اور روح کی آنکھ سے دیکھی جا سکتی ہے

"آنکھیں دیکھتی ہیں، مگر دل کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔" – حضرت علیؓ
         ظاہری چیزیں عموماً عارضی اور عینی ہوتی ہیں۔ ہم کسی کی شکل و صورت، کسی منظر کی خوبصورتی، یا کسی فن پارے کے ظاہری حسن کو دیکھ کر محظوظ ہوتے ہیں۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو فوراً نظر آ جاتی ہیں، اور انہیں دیکھنے کے لیے صرف ہماری آنکھیں کافی ہوتی ہیں۔ لیکن اگر ہم صرف ظاہری شکلوں کے پیچھے دوڑتے رہیں تو ہم زندگی کی اصل حقیقت سے محروم رہ جاتے ہیں۔چشمِ باطن یا دل کی آنکھ ہمیں چیزوں کی اصل پہچان دیتی ہے۔ یہ آنکھ ہمیں لوگوں کے دل کی نیت، کسی فن پارے کے اندر چھپی ہوئی محبت، یا قدرتی مناظر میں موجود روحانی جمالیات دیکھنے کی طاقت دیتی ہے
"جس نے دل سے دیکھا، اس نے حقیقت دیکھی۔" – رومی
      زندگی کی مثال لے لیں۔ اکثر ہم شہروں، عمارتوں یا مشہور مقامات کے ظاہری حسن کی تعریف کرتے ہیں، لیکن وہ لوگ جو چشمِ باطن سے دیکھتے ہیں، وہ انہی مقامات میں چھپی تاریخ، کہانیاں، لوگوں کے جذبے اور محبت دیکھتے ہیں۔ اسی طرح تعلقات میں بھی یہی بات صادق آتی ہے۔ کسی کا ظاہری رویہ یا باتیں ہمیں پہلی نظر میں متاثر کر سکتی ہیں، لیکن کسی کے دل کی نیت اور احساسات کو سمجھنے کے لیے ہمیں باطن کی آنکھ استعمال کرنی پڑتی ہے جو چیز صرف آنکھوں کے سامنے ہو، وہ تو تماشہ ہے، لیکن جو چیز دل اور روح کو چھو جائے، وہ جلوہ ہے۔ تماشہ عارضی ہوتا ہے، لمحاتی خوشی دیتا ہے، لیکن جلوہ دیرپا اثر رکھتا ہے، اور ہماری زندگی میں گہرا اثر چھوڑتا ہے۔
         یہ بات تعلیم اور علم کے حوالے سے بھی لاگو ہوتی ہے۔ کتابوں کا مطالعہ صرف ظاہری نظر سے کرنا، یعنی صرف صفحات دیکھنا، ہمیں صرف معلومات فراہم کرتا ہے۔ لیکن اگر ہم دل اور عقل سے پڑھیں، غور و فکر کریں، اور سمجھنے کی کوشش کریں، تو ہمیں علم کا اصل جلوہ نظر آتا ہے۔روحانیت اور مذہبی تعلیمات میں بھی یہی فلسفہ بیان کیا گیا ہے۔ صرف عبادات کرنے سے انسان کامل نہیں بنتا، بلکہ دل سے، نیت سے، اور باطن کی پاکیزگی سے ہی انسان کی زندگی میں روشنی اور سکون آتا ہے۔
          محبت اور دوستی میں بھی صرف ظاہری طور پر ملنا اور بات کرنا کافی نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے دل کی کیفیت کو سمجھنا، احساسات کو محسوس کرنا، اصل جلوہ دیکھنا ضروری ہے۔ زندگی میں یہ شعور ہمیں صبر، توجہ اور محبت سکھاتا ہے۔ ہم جلد باز نہیں رہتے، فوراً نظر آنے والی چیزوں کے پیچھے نہیں بھاگتے، بلکہ وقت نکال کر غور کرتے ہیں، دل اور عقل سے سمجھتے ہیں، اور پھر حقیقت کو پہچانتے ہیں۔ یہی انسانی بصیرت کی طاقت ہے۔ اکثر لوگ صرف دکھاوے اور ظاہری تماشا چاہتے ہیں۔ سوشل میڈیا، فیشن، اور عوامی مقبولیت بھی اکثر صرف اس تماشے کو بڑھاوا دیتی ہیں۔ لیکن زندگی میں اصل خوشی اور سکون وہی ہے جو باطن کی آنکھ سے محسوس کی جائے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔