بدلتا سیاسی و سماجی منظرنامہ۔۔ازقلم : ابرارالحق مظہر حسناتی۔

بدلتا سیاسی و سماجی منظرنامہ۔۔
ازقلم : ابرارالحق مظہر حسناتی۔ 

وقت کا مزاج ہمیشہ تغیر سے عبارت رہا ہے۔ تغیر کبھی محض موسمی نہیں ہوتا بلکہ انسانی شعور، سماج اور سیاست کی تہوں تک جا پہنچتا ہے۔ آج کا انسان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں لمحے لمحے کے ساتھ منظر بدل رہے ہیں، اور ہر نیا منظر اس کے لیے سوال بن کر ابھرتا ہے۔ سیاست کے ایوان ہوں یا سماج کے کوچے، ہر جگہ تبدیلی کی لہر جاری ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ تغیر ارتقاء ہے یا زوال؟ حقیقت یہی ہے کہ دونوں امکانات ایک ساتھ موجود ہیں، اور فیصلہ اس پر ہے کہ ہم دیکھنے والی آنکھ سے دیکھتے ہیں یا دکھاوے کے فریب میں مبتلا رہتے ہیں۔
سیاسی منظرنامے کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اقتدار کا مرکز اب محض تخت و تاج نہیں رہا بلکہ سرمایہ اور بیانیہ ہے۔ جمہوریت کے نام پر جو نظام کھڑا کیا گیا ہے وہ عوام کو یقین دلاتا ہے کہ وہ فیصلے کرنے والے ہیں، لیکن حقیقت میں فیصلہ کن قوتیں کہیں اور بیٹھی ہیں۔ ووٹ کی پرچی کا وزن صرف شمار ہونے تک ہے، اس کے بعد وہ محض کاغذ کا ٹکڑا رہ جاتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں عقل کہتی ہے کہ عوام کا اعتماد اور خوشی اکثر ایک ایسے پردے کے سوا کچھ نہیں جو اصل کھیل کو چھپا دیتا ہے۔
سماجی سطح پر تبدیلی کی لہر اور بھی گہری ہے۔ رشتے، محلے اور برادری جو کبھی انسان کا سہارا ہوا کرتے تھے، اب کمزور ہو گئے ہیں۔ ان کی جگہ ورچوئل دنیا نے لے لی ہے۔ آج انسان بیک وقت پوری دنیا سے جڑ سکتا ہے مگر اپنے ہی گھر میں اجنبی محسوس کرتا ہے۔ یہ تضاد اس عہد کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ آزادی اور قید بیک وقت وجود میں آ گئے ہیں۔ سہولتوں کا انبار ہے مگر قربتوں کا فقدان ہے۔
طاقت کا استعمال بھی بدل چکا ہے۔ ماضی میں حکمران لشکروں کے ذریعے قابض ہوتے تھے، آج وہ قانون اور میڈیا کے ذریعے اپنا اقتدار قائم رکھتے ہیں۔ عدالت کے فیصلے بظاہر انصاف کے عکس ہوتے ہیں، مگر ان کے پس پردہ وہی قوتیں کارفرما ہوتی ہیں جنہیں نظر سے اوجھل رکھا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں منطق ہمیں بتاتی ہے کہ حقیقت کو صرف ظاہر سے نہیں پرکھا جا سکتا بلکہ پس منظر کے اسباب اور عوامل کو دیکھنا بھی لازم ہے۔
طبقاتی خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔ سرمایہ دار کی دولت بڑھ رہی ہے اور مزدور کی محنت سستی ہوتی جا رہی ہے۔ ایک ہی شہر میں دولت کی ریل پیل اور غربت کی شدت ساتھ ساتھ چلتی ہیں، مگر یہ عدم توازن باقی رکھا جاتا ہے کیونکہ یہی طاقتور کے لیے فائدہ مند ہے۔ فلسفے کی زبان میں کہا جائے تو یہ "نظامِ نابرابری" طاقت کے وجود کا جواز ہے۔ طاقت اسی وقت قائم رہ سکتی ہے جب معاشرہ طبقات میں بٹا ہو۔
مذہب اور ثقافت بھی سیاست کی چکی میں پس رہے ہیں۔ کبھی مذہب کو محض رسومات کا نام دے دیا جاتا ہے، کبھی اسے سیاست کا ہتھیار بنا دیا جاتا ہے۔ اس کی اصل روح، جو عدل و انسانیت ہے، نظروں سے اوجھل کر دی گئی ہے۔ مغرب میں مذہب کو ذاتی حد تک محدود کیا گیا، مشرق میں اسے طاقت کے کھیل میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ دونوں صورتوں میں نتیجہ ایک ہی ہے: اصل پیغام پیچھے رہ گیا ہے۔
سیاست کا کھیل ہمیں شطرنج کی یاد دلاتا ہے۔ عوام پیادے ہیں جنہیں کسی وقت قربان کیا جا سکتا ہے۔ میڈیا گھوڑے کی طرح دوڑایا جاتا ہے، قانون ہاتھی کی طرح بڑھایا جاتا ہے، سرمایہ رخ کی طرح سیدھی چال میں چلتا ہے، اور اصل بادشاہ وہی ہے جو پس پردہ محفوظ رکھا جاتا ہے۔ عوام کو لگتا ہے کہ وہ کھیل رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ کھیلے جا رہے ہیں۔ اصل ہاتھ وہ ہے جو تختے پر نظر رکھتا ہے اور ہر چال پہلے سے طے کرتا ہے۔
یہ منظرنامہ ہمیں بار بار یاد دلاتا ہے کہ حقیقت اور تاثر میں فرق کرنا کتنا ضروری ہے۔ آئینے میں شیر دکھائی دے سکتا ہے مگر حقیقت گدھے کی ہو سکتی ہے۔ اگر شعور صرف عکس پر اعتماد کرے تو دھوکہ کھا جائے گا، مگر اگر حقیقت کو پہچان لے تو ارتقاء کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں فلسفہ، منطق اور ادب ایک ساتھ مل کر حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں۔
انسانی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ تغیر ہمیشہ امکانات کے دروازے کھولتا ہے۔ یہ امکانات بسا اوقات ترقی کے ہوتے ہیں اور بسا اوقات زوال کے۔ آج کا بدلتا سیاسی و سماجی منظرنامہ بھی انہی امکانات سے بھرا ہے۔ اگر ہم صرف دکھاوے پر مطمئن ہو جائیں تو زوال ہمارا مقدر ہے، اور اگر حقیقت کو پہچان کر صحیح راستہ اختیار کریں تو ارتقاء ہمارا مستقبل ہے۔ وقت کا دھارا کسی کے لیے نہیں رکتا، لیکن یہ دھارا کس سمت میں لے جائے، یہ انسان کے فہم، اس کی جدوجہد اور اس کی بصیرت پر منحصر ہے۔ یہی ہے بدلتے سیاسی و سماجی منظرنامے کی اصل کہانی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔