عوامی و رفاہی ادارے کسکی ملکیت ؟از قلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے۔
عوامی و رفاہی ادارے کسکی ملکیت ؟
از قلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے۔
مساجد مکاتب مدارس عصری و دینی تعلیمی فلاحی و رفاہی عوامی ادارے کسکی ملکیت ہوتے ہیں ؟ کیا یہ شخصی ملکیت ہوتے ھیکہ جسمیں وراثت چلے ؟ یا یہ اللہ تعالی کی ملکیت ہوتے ھیکہ اسمیں تمام مسلمانوں کا حق متعلق ہوتا ہے ؟
پہلے بزرگوں اور اہل خیر اور قوم و ملت کے خیر خواہ حضرات نے مساجد مدارس اور عصری و دینی تعلیم گاہوں کے لئے اپنی زمینیں و جائیدادیں وقف کی ہیں اور وقف کی صورت میں یہ جائیدادیں شخصی ملکیت سے نکلکر اللہ تعالی کی ملکیت میں آجاتی ہیں لیکن واقف کے شرائط اور اسکے منشا و مقصد کا ہر حال میں پاس و لحاظ رکھنا ضروری ہے لیکن وہ اسکی شخصی ملکیت میں نہیں رہتی کہ اسکے بعد اسمیں اسکی وراثت چلے
اسلئے ہر گاوں کی مسجد اگرچہ اسکی زمین کسی ایک شخص نے وقف کی ہو لیکن وہ اسکے نام سے رجسٹرڈ نہیں ہوتی بلکہ جماعت المسلمین کے نام سے رجسٹرڈ ہوتی ہے اور پھر جماعت المسلمیں آپسی رائے مشورے سے اسکے انتظام و نگرانی اور اسکا بندوبست سنبھالنے کے لئے معینہ مدت کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے اسمیں صدر سیکٹری خازن و غیرہ دیگر عہدیداران بھی بنائے جاتے ہیں اور یہ حضرات اسکی ترقی اور فلاح و بہبودی کے لئے انتھک محنت اور کام کرتے ہیں اسلئے کہ یہ سارا کام قوم و ملت کی خدمت اور آخرت کے اجرو ثواب کی نیت اور مقصد سے کیا جاتا ہے
پھر انکی مدت کار پوری ہونیکے بعد دوسری کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے لیکن مسجد کی کوئی چیز اور جائیداد کمیٹی کے کسی فرد کے نام نہیں ہوتی نہ صدر و سیکٹری کے نام اور نہ کسی اور عہدیدار کے نام اور نہ اسپر پہلے کمیٹی کے فرد کا کوئی اختیار چلتا ہے بلکہ ساری چیزیں جماعت المسلمیں کے نام سے ہوتی ہیں اور اسی کی ملکیت ہوتی ہیں اور سارے اختیارات جماعت المسلمین کو ہی ہوتے ہیں
اسیطرح دینی و عصری تعلیم گاہوں کا بھی یہی حال ہوتا ھیکہ اسکا انتظام اور نظام سنبھالنے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے لیکن ادارے کی ساری جائیدادیں اور پراپرٹیاں اس ادارے کے نام سے رجسٹرڈ کرائی جاتی ہیں اسلئے کہ وہ ادارے کی ملکیت ہوتی ہیں کمیٹی کا صدر و چیرمیں ادارے کا مالک نہیں ہوتا بلکہ وہ کمیٹی کا ذمہ دار اور سربراہ ہوتا ہے اسلئے انکی مدت کار مکمل ہوجانیکے بعد دوسری کمیٹی بنائی جاتی ہے لیکن بسااوقات آپسی رائے و مشوروں سے وہی عہدیداران باقی رکھے جاتے ہیں اور پہلے سے امانتداری اور دیانتداری کیساتھ یہی چلتا آرہا ہے
پہلے حضرات اگرچہ زیادہ تعلیم یافتہ نہیں تھے لیکن اللہ تعالی کا ڈر اور خوف رکھتے تھے اسلئے بہت احتیاط برتتے تھے اسلئے یہ عوامی ادارے عوامی ادارےاور عوامی ملکیت میں باقی رہے اسلئے نہ ان پر کسی کی شخصی ملکیت ہے اور نہ کسی کی شخصی اجارہ داری ہے عہدیداران اور ذمہ داران ادارے کیخاطر اپنا تن من دھن سب قربان کردیتے لیکن کوئی ان عوامی اداروں کو اپنے نام کرنیکی ہمت و جسارت نہیں کرتا تھا
آج بھی چند افراد ملکر کوئی مسجد یا سماجی و فلاحی ادارہ یا کوئی عصری و دینی تعلیمی ادارہ قوم و ملت کی فلاح و بہبودی کے لئے قائم کرتے ہیں اور اسمیں سارا مال اور پیسہ عوام الناس کا ہوتا ہے چاہے وہ وقف کی صورت میں ہو یا عطیہ و ڈونیشن کی شکل میں ہو یا پھر صدقہ خیرات اور زکات کی شکل میں ہو
کمیٹی چند افراد کے نام سے رجسٹرڈ کرائی جاتی ہے جسمیں صدر سیکٹری کے علاوہ دیگر عہدیدار اور ممبران ہوتے ہیں اور انکا صدر جو ہوتا ہے وہ اس ادارے کا مالک نہیں ہوتا بلکہ سربراہ ہوتا ہے اسلئے ادارے کی ساری جائیدادیں اور پراپرٹیاں اور ہر چھوٹی بڑی چیز ادارے کے نام رجسٹرڈ ہوتی ہے صدر سیکٹری یا کسی اور عہدیدار کے نام رجسٹرڈ نہیں ہوتی
لیکن سرکاری قانون کے اعتبارسے جن ممبران کے نام رجسٹرڈ ہوتے ہیں انکو کوئی نکال نہیں سکتا جب تک وہ خود مستعفی نہیں ہوتے یا وفات نہیں پاتے عہدے اور مناصب آپسی رائے مشوروں سے تبدیل کئے جاسکتے ہیں لیکن نکال نہیں سکتے
اسلئے بسااوقات ادارہ رجسٹرڈ کراتے وقت یا درمیان میں اصلاح و درستگی کے بہانے ایسی شرائط اور ایسی چیزیں اسمیں داخل کیجاتی ھیکہ پھر وہ ادارے قومی و ملی ہونے کے بجائے شخصی اور مورثی بن جاتے ہیں اور پھر سارے اختیارات صدر یا سیکٹری کے ہاتھ آجاتے ہیں پھر حکومتی قانون کے اعتبارسے عام عوام تو دور کی بات ہے دیگر ممبران بھی کچھ کر نہیں سکتے پھر آہستہ آہستہ اپنے رشتہ داروں اور دوست و احباب کو دیگر ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں اور ہر کام میں انکو آگے بڑھایا جاتا ہے اور پہر انکے کاموں کی خوب تشہیر کیجاتی ہے تاکہ عوام الناس کو یہ باور کرایا جاسکے کہ اصل قربانی اور محنت انھیں حضرات کی ہے اور یہ حضرات ادارے کے لئے کس قدر ضروری ہیں باقی دیگر ممبران کا نہ کبھی تذکرہ ہوتا ہے اور نہ کبھی تعارف ہی ہوتا ہے
کیا عہدیداران کے رشتے داروں اور دوست و احباب کے علاوہ قوم و ملت کے اندر ایسے اشخاص نہیں ہیں جو قوم و ملت کے ان اداروں کو سنبھال سکیں ؟ یہ قوم و ملت کیساتھ بدگمانی اور انکو گمراہ اور دھوکہ دینا نہیں تو اور کیا ہے کیا قیامت کے روز جواب دینا نہیں ہے ؟ کیا یہ دنیا ہی سب کچھ یے ؟ کیا اللہ تعالی رازق نہیں ھیکہ اسکو چھوڑ کر قوم و ملت کے اداروں میں خیانت کرکے اپنے وارثوں رشتہ داروں اور دوست و احباب کے لئے روزی روٹی اور معاش کا انتظام کیا جاریا ہے چاہے قوم و ملت اور امت کا کتنا ہی نقصان اور خسارہ ہو
اللہ تعالی خیانتوں اور بد دیانتی سے حفاظت فرمائے اور قوم و ملت کے اداروں اور انکے اثاثوں کی ہر طرح سے حفاظت فرمائے ۔
Comments
Post a Comment