مصنوعی ذہانت اور اساتذہ کی تعلیم کا مستقبل: مانو بیدر میں قومی کانفرنس، ملک بھر کے ماہرین کی بھرپور شرکت۔
مصنوعی ذہانت اور اساتذہ کی تعلیم کا مستقبل: مانو بیدر میں قومی کانفرنس، ملک بھر کے ماہرین کی بھرپور شرکت۔
بیدر۔7/ فروری (نامہ نگار)۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) کے جزوی کالج آف ٹیچر ایجوکیشن، بیدر نے ”مصنوعی ذہانت اور اساتذہ کی تعلیم کا مستقبل“ کے موضوع پر ایک روزہ قومی کانفرنس کا کامیاب انعقاد کیا، جس میں ملک بھر سے ماہرین تعلیم، محققین، اساتذہ اور اکیڈمک شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔ شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنز کے العزیز آڈیٹوریم میں منعقدہ یہ علمی اجتماع ہائبرڈ انداز میں ہوا، جس میں آن لائن اور آف لائن دونوں پلیٹ فارمز کے ذریعے 28 متوازی ونڈوز کے ساتھ علمی نشستیں منعقد کی گئیں۔ کانفرنس کے لیے ملک بھر سے 400 سے زائد تحقیقی مقالے موصول ہوئے، جو اس پروگرام کی علمی اہمیت اور وسعت کی عکاسی کرتے ہیں۔کانفرنس کا مرکزی موضوع جدید دور میں مصنوعی ذہانت (AI) کا تدریسی نظام پر اثر اور اس کے مستقبل کے امکانات تھا۔ مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اے آئی تدریس و تعلم میں انقلابی تبدیلیاں لا سکتی ہے، تاہم اسے ذمہ داری، اخلاقی اصولوں اور تعلیمی توازن کے ساتھ استعمال کرنا ضروری ہے تاکہ انسانی اقدار اور استاد و طالب علم کے باہمی تعلق کو نقصان نہ پہنچے۔افتتاحی اجلاس میں مانو سی ٹی ای بیدر کے پرنسپل اور کانفرنس کے چیئرپرسن ڈاکٹر محمد طالب اطہر انصاری نے استقبالیہ خطاب پیش کرتے ہوئے کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔ سینئر پروفیسر اور ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر ڈاکٹر محمد محمود صدیقی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور تعلیمی میدان میں ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال پر زور دیا۔ مہمانانِ اعزاز میں شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنز کے چیئرمین ڈاکٹر عبدالقدیر، شعبہ تعلیم و تربیت کی سربراہ پروفیسر شاہین شیخ اور پروفیسر مشتاق آئی پٹیل شامل تھے۔اس موقع پر ڈاکٹر عبدالقدیر نے موجودہ جدید ٹیکنالوجی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ بدلتے ہوئے تعلیمی منظرنامے میں نئی ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ”مصنوعی ذہانت جیسے جدید وسائل نہ صرف تعلیمی معیار کو بلند کر سکتے ہیں بلکہ طلبہ کو عالمی سطح کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، لہٰذا نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ جدید سائنسی اور تکنیکی مہارتوں کو اپناتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو فروغ دیں“۔کلیدی خطبہ پروفیسر کے سرینواس (آئی سی ٹی اور پروجیکٹ منیجر، این آئی ای پی اے) نے پیش کیا، جس میں انہوں نے اے آئی کے ذریعے تدریسی معیار میں بہتری کے امکانات پر روشنی ڈالی۔سنٹرل یونیورسٹی آف کرناٹک کے ڈاکٹر ایم تیاگو نے بطور اہم ماہر مختلف عملی پہلوؤں اور تدریسی چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی۔ مقررین نے متفقہ طور پر کہا کہ مستقبل کے اساتذہ کو اے آئی کے استعمال میں مہارت کے ساتھ ساتھ اخلاقی شعور بھی درکار ہے۔کانفرنس کے دوران 28 متوازی تکنیکی سیشنز منعقد ہوئے، جن کی صدارت پروفیسرز اور ایسوسی ایٹ پروفیسرز نے کی جبکہ اسسٹنٹ پروفیسرز نے شریک چیئرز کے طور پر ذمہ داریاں نبھائیں۔ ملک کے مختلف حصوں سے آئے محققین نے 400 سے زائد مقالے پیش کیے، جن میں اے آئی کی مدد سے تدریسی حکمتِ عملی، ڈیجیٹل تعلیمی مساوات، ڈیٹا پرائیویسی، تدریسی دیانت اور تعلیمی مستقبل جیسے موضوعات پر بھرپور مباحث ہوئے۔کانفرنس کا اختتامی اجلاس شام5:30 بجے منعقد ہوا، جس کی صدارت ڈاکٹر محمد محمود صدیقی نے کی۔ مہمانانِ اعزاز میں پروفیسر شاہین شیخ، پروفیسر اشونی، پروفیسر محمداطہر حسین، سنٹر فار اوپن ڈسٹنس لرننگ کی پروفیسر وی ایس سوامی اور اسی مرکز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر وسیم پٹھان شامل تھے۔کانفرنس کی تنظیمی ذمہ داریاں ڈاکٹرحِنا حسن (آرگنائزنگ سیکریٹری)، ڈاکٹر نوین کمار ایم (کنوینر) اور ڈاکٹر ڈی وشوا پرساد (کوآرڈی نیٹر) نے سنبھالیں۔ شرکاء نے اس علمی اجتماع کو غیر معمولی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت اساتذہ کی تعلیم کے میدان میں انقلابی امکانات رکھتی ہے اور مستقبل میں تدریسی نظام کو مزید مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔یہ کانفرنس مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے اس عزم کا مظہر رہی کہ اردو میڈیم اور جامع تعلیم کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئے نئی نسل کے اساتذہ کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جائے۔
Comments
Post a Comment