مادری زبان؛ شناخت، تاریخ اور ہماری ذمہ داری۔ ازقلم : عقیل خان بیاولی جلگاؤں۔
مادری زبان؛ شناخت، تاریخ اور ہماری ذمہ داری۔
ازقلم : عقیل خان بیاولی جلگاؤں۔
مادری زبان انسان کی پہلی پہچان اور تہذیبی شناخت کا بنیادی ستون ہے۔ یہی وہ زبان ہے جس میں بچہ پہلی بار ماں کی لوری سنتا ہے، جذبات کو پہچانتا ہے اور دنیا کو سمجھنے کے عمل کا آغاز کرتا ہے۔ زبان محض ابلاغ کا وسیلہ نہیں بلکہ تہذیب، تاریخ، فکر اور احساس کی امین ہوتی ہے۔ اسی لیے مادری زبان کو محفوظ رکھنا دراصل اپنی تہذیبی روح کو زندہ رکھنا ہے۔ مادری زبان سے مراد وہ زبان ہے جو انسان بچپن میں اپنے گھر، ماں باپ اور قریبی ماحول سے سیکھتا ہے۔ یہ زبان فطری طور پر ذہن میں راسخ ہوتی ہے اور سوچ، فہم اور اظہار کا پہلا سانچہ تیار کرتی ہے۔ نفسیاتی اور لسانی تحقیق بتاتی ہے کہ انسان کی شخصیت کی تشکیل میں مادری زبان کا کردار بنیادی ہوتا ہے۔
یومِ مادری زبان کی ابتدا
یومِ مادری زبان ہر سال 21 فروری کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کی بنیاد 1952ء میں ڈھاکا میں پڑنے والی اس تاریخی قربانی پر رکھی گئی جب بنگالی زبان کو سرکاری حیثیت دلانے کے لیے طلبہ نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ بعد ازاں اس جدوجہد کو عالمی سطح پر تسلیم کرتے ہوئے UNESCO نے 1999ء میں 21 فروری کو "عالمی یومِ مادری زبان" قرار دیا، جس کا مقصد لسانی تنوع کے تحفظ اور مادری زبانوں کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔
مادری زبان کی اہمیت اور فوائد یہ ہے کہ
مادری زبان انسان کے ذہنی ارتقا میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جو طالب علم اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، وہ مضامین کو بہتر سمجھتے ہیں اور تخلیقی صلاحیتوں میں بھی آگے ہوتے ہیں۔ اس سے حصولِ علم میں آسانیاں و راحت ملتی ہے مادری زبان میں تعلیم ذہنی دباؤ کم کرتی ہے۔
سائنسی و فکری تصورات زیادہ واضح طور پر سمجھ میں آتے ہیں۔ اظہارِ خیال میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ یوں مادری زبان تعلیمی ترقی کا مضبوط زینہ بنتی ہے۔
*ہماری مادری زبان اردو کی اہمیت*
اردو زبان برصغیر کی تہذیبی، دینی اور ادبی روایت کی نمائندہ زبان ہے۔ یہ زبان عربی و فارسی کے علمی ذخیرے سے فیض یاب ہو کر پروان چڑھی اور عوام و خواص دونوں کے دلوں میں جگہ بنائی۔ اردو میں قرآن و حدیث کی تفہیم، فقہی مباحث اور صوفیانہ ادب نے ایک وسیع علمی ورثہ تیار کیا ہے۔ اس لیے اردو محض بول چال کی زبان نہیں بلکہ فکر و دانش کا وسیلہ بھی ہے۔ زبان عربی اور اردو میں یکسانیت اور اس کے فوائد یہ ہے کہ اردو اور عربی زبانوں میں گہری لسانی قربت پائی جاتی ہے۔ ہزاروں الفاظ اردو میں عربی سے مستعار ہیں، جیسے: علم، عدل، ایمان، انصاف، تاریخ وغیرہ۔جس سے اہل
اردو کو بہت فوائد ملتے
عربی زبان سیکھنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔ دینی متون کو سمجھنے میں سہولت ملتی ہے۔ دونوں زبانوں کی مشترکہ لغوی اساس علمی وسعت پیدا کرتی ہے۔ یوں اردو داں طبقہ عربی زبان کے ذریعے اسلامی علوم سے براہِ راست استفادہ کر سکتا ہے۔ اس لئے یہ زبان ہمارے دین سے بھی قریب ہے سو مادری زبان کی بقا کے لیے ہماری ذمہ داریاں ہم یہ کہہ سکتے ۔
مادری زبان کی حفاظت صرف اداروں کی نہیں بلکہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ گھروں میں مادری زبان کا استعمال بڑھایا جائے۔ بچوں کو مادری زبان میں کہانیاں اور کتابیں دی جائیں۔تعلیمی اداروں میں مادری زبان کے نصاب کو مضبوط کیا جائے۔ سوشل میڈیا اور جدید ذرائع میں مادری زبان کو فروغ دیا جائے۔
ادبی نشستوں اور صحافتی تحریروں کے ذریعے زبان کو زندہ رکھا جائے۔ اس موقع پر ہم اتنا کہنا ضروری سمجھتے ہیں کہ
یومِ مادری زبان ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ زبان صرف رابطے کا وسیلہ نہیں بلکہ تہذیب کی روح ہے۔ اگر مادری زبان محفوظ رہے گی تو ہماری شناخت، فکر اور روایت بھی محفوظ رہے گی۔ اردو جیسی علمی و تہذیبی زبان کی بقاء دراصل ہماری تہذیبی بقاء ہے ۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ مادری زبان کو محض یادگاری دن تک محدود نہ رکھیں بلکہ روزمرہ زندگی میں اسے اپنائیں، سنواریں اور آنے والی نسلوں تک منتقل کریں۔ یہی یومِ مادری زبان کا حقیقی مقصد اور عملی پیغام ہے۔اسی کے ساتھ عملی اقدامات یہ ہے کہ اس کی بقاء کے لئے اخبارات رسائل خریدیں اشتہارات دیں قلمکاروں کی حوصلہ افزائی کریں، اداروں کے قیام کریں، ہر علاقے میں کتب خانے قائم کریں دستوری قانونی طور پر جو اختیارات حقوق حاصل ہیں انہیں حاصل کرنے کی مثبت کوشش کریں اور باہمی اتحاد و اتفاق کے ساتھ علمی ادبی صحافتی تعلیمی،تحقیقی کارگزاریوں میں اپنے حصے کی شمع روشن کریں۔اسے فریضہ جانے احسان نہیں ۔۔۔
Comments
Post a Comment