قومی یکجہتی اور مذہبی رواداری۔۔ از قلم ۔۔۔۔رضیہ سلطانہ الطاف پٹھان شولاپور۔
قومی یکجہتی اور مذہبی رواداری۔
از قلم ۔۔۔۔رضیہ سلطانہ الطاف پٹھان شولاپور۔
ہندوستان قدیم زمانے سے مشترکہ تہذیب اور گنگا جمنی ثقافت کا علمبردار رہا ہے۔ اس سرزمین کی اصل پہچان اس کا تنوع، رنگا رنگی اور کثرت میں وحدت ہے۔ یہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے، گوناگوں زبانیں بولنے والے اور مختلف ذاتوں، رنگوں اور نسلوں سے تعلق رکھنے والےصدیوں سے مل جل کر رہتے آئے ہیں۔ یہی باہمی میل جول، رواداری اور اخوت ہندوستانی معاشرے کی بنیادی طاقت ہے۔ قومی یکجہتی اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب لوگ مذہبی اور سماجی اختلافات سے بلند ہو کر ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کریں اور باہمی تعاون کو اپنا شعار بنائیں۔ مذہبی رواداری کا مطلب یہ ہے کہ ہر فرد کو اپنے عقائد پر عمل کی مکمل آزادی ہو اور ساتھ ہی دوسروں کے عقائد کا بھی احترام کیا جائے۔ یہی رویہ ایک مہذب، پرامن اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے۔ موجودہ دور میں مذہبی رواداری اور قومی یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ نفرت، تعصب اور تنگ نظری سماج کو کمزور کرتی ہیں، جبکہ محبت، برداشت اور احترام معاشرے کو مضبوط بناتے ہیں۔ ہندوستان کی تہذیبی روایت ہمیشہ باہمی ہم آہنگی اور مشترکہ اقدار پر قائم رہی ہے، اسی لیے یہاں صدیوں سے مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ امن و سکون سے رہتے آئے ہیں۔ آج کے حالات میں ہندو مسلم اتحاد کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ افسوس کہ بعض طاقتیں اب بھی پرانی نوآبادیاتی پالیسی "پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو" کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس سوچ کا مقابلہ صرف اور صرف اتحاد، اخوت اور باہمی اعتماد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم نفرت کی دیواریں گرا دیں اور قومی ترقی کے لیے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں۔ مذہبی رواداری کے فروغ کے لیے سماجی سطح پر بیداری پیدا کرنا نہایت ضروری ہے۔ تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور میڈیا کو چاہیے کہ وہ بھائی چارے، امن اور انسان دوستی کے پیغام کو عام کریں۔ قومی یکجہتی سے متعلق پروگرام، مشترکہ سماجی سرگرمیاں اور فلاحی کام ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر ہم انسانی معاشرے کی ساخت پر غور کریں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ دنیا کا نظام اتحاد اور باہمی تعاون سے چلتا ہے۔ انسان ایک سماجی مخلوق ہے اور وہ تنہا زندگی نہیں گزار سکتا۔ ہر فرد کو کسی نہ کسی مرحلے پر دوسرے انسان کی مدد درکار ہوتی ہے۔ یہی احساس انسانیت ہمیں مذہبی اور سماجی سرحدوں سے اوپر اٹھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں جو مذہبی رواداری اور انسانی ہمدردی کی روشن علامت ہیں۔ محمد دیپک کی مثال ہمارے سامنے ہے، جنہوں نے بلا کسی خوف کے ایک بزرگ مسلمان پر ہونے والی زیادتی کے خلاف آواز اٹھائی۔ اسی طرح کوویڈ-19 کے دوران مسلمانوں نے ہر مذہب کے متوفین کی آخری رسومات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور انسان دوستی کی شاندار مثال قائم کی۔ حال ہی میں پنجاب میں آنے والے سیلاب کے دوران مسلمانوں کا جذبۂ خدمت قابلِ ستائش رہا۔ جب سرکاری امداد ناکافی ثابت ہوئی تو مسلمانوں نے اپنی مساجد اور مدارس کے دروازے سب کے لیے کھول دیے۔ جگہ جگہ امدادی سامان بھیجا گیا اور شاہی امام پنجاب مولانا عثمان لدھیانوی صاحب خود کشتی میں بیٹھ کر متاثرین کی مدد کے لیے نکل پڑے۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ میلاد النبی سادگی سے منائیں اور مصیبت زدہ افراد کی ہر ممکن مدد کریں۔ یہ تمام واقعات اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ اگر ہم مذہبی رواداری، باہمی احترام اور اتحاد کو فروغ دیں تو ہمارا ملک ترقی کی راہ پر تیزی سے گامزن ہو سکتا ہے۔ نہ صرف برصغیر میں بلکہ عالمی سطح پر بھی ہندوستان ایک مضبوط، پرامن اور باوقار قوم کے طور پر اپنی شناخت قائم کر سکتا ہے۔ آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ قومی یکجہتی اور مذہبی رواداری ہی ہندوستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔ ہمیں نفرت، تعصب اور تفرقے کے بجائے محبت، برداشت اور بھائی چارے کو فروغ دینا ہوگا، کیونکہ اسی میں ہماری بقا، ترقی اور سربلندی مضمر ہے۔
Comments
Post a Comment