پروفیسر، سلیم عباس دیسای کےافسانوں کا مجموعہ "اصلی مکان " کااجراء۔


بروزمنگل 17فروری دوپہر اقراء اسکول کے احاطے میں پروفیسر سلیم عباس دیسای کے افسانوں کا مجموعہ "اصلی مکان "کا اجراء بڑے ہی شاندار طریقے سے عمل میں آیا۔اس موقعے پر طلبہ وطالبات کے ساتھ ساتھ نامور اور موتبر ہستیوں نے حصہ لیا۔جن میں اقراء اسکول چئیرمین ،کانگریس پارٹی رائباغ بلاک کے صدر حاجی سیل ملاّ نےصدارت کی کرسی سنبھالی ۔ساتھ ہی رائبا غ تحصیل کے تحصیلدار ڈی۔یس، جمعدار ،یس ڈی اے،جیتندر وپار اس موقعے پر بطور خصوصی مہمان رہے۔
  پروگرام کا آغاز دہم جماعت کے طالب علم ابوبکر شیخ کے تحت قرآن مجید کی تلاوت کے ساتھ ہوا۔پھر مہمانوں کی آمد پر خوش عین قلمات کے بعد گل پوشی کا سلسلہ چلتا رہا بعد ازصدر اور مہمانوں نے مل کر اپنے مبارک ہاتھوں سے "آصلی مکان "کتاب کا اجراء کیا تو سارا ہال تالیوں سے گونج اٹھا میر مدرس کی غیر حاضری میں انکی ذمداری کو ذکرنساء ملا میڈم نے بڑے ہی سعادت مندی سے نبھاتے ہوئے پروفیسر سلیم عباس دیسای کے ایک طویل ادبی سفر کا خاکہ صامین کے سامنے رکھ دیا۔جس میں آپ کی پہلی آفسانوں کی کتاب "ہارکی چوری "سے لے کر "آصلی مکان "تک ذکر رہا۔اپ نے کہا پروفیسر سلیم عباس دیسای کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں اپ کے افسانے، تحریر یں،غزلیات، نظمیں، اور مقالے متعدد اخبارات، ریڈیو، ٹی لی ویژن سے سنے پڑھےاوردیکھے جاسکتے ہیں۔آخیر میں ذکرنساء میڈم نے امید جتاتے ہو ئے کہا کہ؛پچھلے آفسانوں کی طرح "آصلی مکان "آفسانوں کاد مجموعہ بھی ادبی دنیا میں دھوم مچا کر رکھ دیگا۔۔
    جب مائک پروفیسر کے حوالے کر دیا گیا تو سارا ہال سانس روکےبیھٹا تھا کہ؛ سر کیا کہنے والے ہیں، لہیذا سر نے طالب علموں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ، جن کی نظر منزل پر رہتی ہے وہ کبھی راستوں کی دشوار یوں کو دیکھا نہیں کرتے۔چلنا جن کا مقصد ہوتا ہے۔ایسے ہی لوگ دنیا میں اپنا نام روشن کرتے ہیں ۔پھر سلیم عباس دیسای نے آفسانوں کے مجموعے "آصلی مکان "کے کھچ آفسانوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ، صامین کو چاہیے کہ آفسانوں کو پڑھنے کے بعد صرف اظہار مسرت آور شاباشی کے لفظ استعمال نا کرےبلکے تنقیدی اراءسے بھی نواز دیں ساتھ ہی پروفیسر نے کہا کہ؛آج میں جو کچھ بھی ہو ں وہ میرے ماں کے مار اورپیارکا ثمر ہے جو آج ایک تناور درخت بن کے ادبی دنیا میں ادب نواوں ِکو ثمر سے نواز رہا ہے۔پھر پروفیسر سلیم عباس دیسای نے آن تمام کرم فرما وں کا شکریہ بجا لایا جو کتاب کو طبح کرنے اور اجراء کے فنکشن کو کامیاب بنانے میں بھرپور تعاون فرمایا۔
    اس کے بعد آج کے فنکشن کے صدر سُیل مّلانے کہا، ہماری خوش قسمتی ہے کہ؛ہماری اسکول کوہمارے بچوں کو ایک ادیب کی شکل میں اُستاد ملا ہے بچوں کو چاہیے کہ سرسےاستفادہ حاصل کر ےانےوالےدنوں میں ایک اچھا ادیب بن کرمحاشرےکی اصلاح کا جامین بنے ۔صدر صاحب نے ہنٹوں پر تبسم سجاتے ہوئے بتایا کہ،' پیش لفظ 'میں سر نے لکھا ہے "جو انسان وقت کے ساتھ اپنے آپ کو ڈال نا دے اسے وقت بدل دیتا ہے۔"زبان لوگوں کے درمیان رابطے کا کام کرتی ہے دو تہذیبوں کو جاننے سمجھنے کاہم رول ادا کرتی ہے صدر نے نے بچوں کو زیادہ سے زیادہ کتابیں پڑھنے کی ان سے معلومات حاصل کرنے کی تلقین کی ،کہا کہ کتابوں کو الماری میں سجا کر نا رکھے بلکہ کتابوں سے آپنا مستقبل روشن بناے آخیر میں سُیل ملا صاحب نے سلیم دیسای کو ان کے ادبی سفر کے لئے نیک دعا وں کے اظہار کے ساتھ ساتھ مدد کا بھروسہ دلایا ۔اظہار تشکر کے ساتھ پروگرام کااختتام ہوا۔
    جوحضرات پروفیسر کی کتاب حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ مندرجہ نمبر سے رابطہ کرے۔9902130714

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔